مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 223
۲۲۲ تو انسان دنیا کا کونہ کو نہ اگر چاہے تو دیکھ سکتا ہے۔ہمیں تو سر درد کی ایک ٹکیہ ، دمہ کی ایک پڑیا اور انڈی پنڈنٹ قلم کے ایک نیا تک کا شکر یہ بھی ادا نہیں کر سکتا۔بڑی بڑی نعمتوں کو کہاں بیان کہ سکتا ہوں۔میرے لئے قادیان ایک نعمت ہے۔یہاں کی نمازیں ، درس خطبے رمضان طلبہ کانفرنس، عیدیں نکاح اور جنازے ہر چیز ایک گرا نہا نعمت ہے۔بیت مبارک ایک نعمت ہے۔اخبار الفضل ایک نعمت ہے بہشتی مقبرہ ایک نعمت ہیں۔ارتقائے ) میسج موجود ایک نعمت ہیں۔احمدیہ جماعت ایک نعمت ہے۔غرض کہاں تک بیان کروں ہے زر فرق تا بقدم ہر کجا کہ مے نگرم کرشمہ دامن دل میکشد که جا اینجا است روزانہ اخبارات کتابیں رسالے دل بہلانے کو طرح طرح کے میبوسے طرح طرح کی تر کاریاں طرح طرح کی مٹھائیاں۔طرح طرح کی توشبوئیں طرح طرح کے لباس ان کا ذکر بھی جانے دو۔ایک تین پیسے کا کارڈ۔اور ایک چند روپے کی گھڑی۔بلکہ اس کا الارم بھی میرے لئے نئی نعمت ہے۔قادیان میں منارہ اس کا گھنٹڈ اور اس کی روشنی سب شکر کے فائل ہیں۔بچوں کے لئے یسرنا القرآن اور بڑوں کے لئے خزینۃ العرفان اور تفسیر کبیر جیسی نعمتیں بخشیں۔میں باہر نکلتا ہوں تو چھتری لگا کریش کر کر تا ہوں۔گھر میں ہوتا ہوں تو بجلی کی روشتی پمپ کے پانی اور برقی پنکھے سے نعمتوں کا لطف اٹھاتا ہوں۔گلیوں میں سے گذرتا ہوں تو ایک ادھر سے سلامتی کی دعا کرتا ہے اور ایک ادھر سے بیٹھتا ہوں تو ایسے لوگوں کے در میان جن کی بابت فرمایا گیا کہ لایشقی جلسہم جن سے خدا کلام کرتا ہے۔اور وہ خدا سے کلام کرتے ہیں۔دین وہ ملا حین میں کوئی نقص نہیں۔کوئی رخنہ نہیں۔سراسر اپنا فائدہ ہی فائدہ اور آرام ہے۔عزیز رشتہ دار ایسے لے کر یا جنت میں ہیں یا جنت میں جائیں گے چنائے وہ ملے جو فرشتہ سیرت ہیں۔بیویاں ملیں کہ تیس سال سے ایک نے دوسری کو تو کہہ کر خطاب نہیں کیا۔گھر دہ بخشا کہ نہایت آرام دہ اور چھیانوے روپیہ کی مالیت سے خود بخود بڑھتے