مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 169
۱۶۸ خدا تعالی کے لئے جو جوش محبت آپ کے دل میں تھا آپ کے عمل میں بھی جھلکتا تھا اور آپ کے کلام میں میں۔خدا تعالی کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں : میری خوشبو مانغمہ مرے دل کی غذا تم ہو مری لذت مری راحت مری جنت شها تم ہو مرے دلیر مرے دلدار گنی لیے بہا تم ہو صنم تو سب ہی ناقص ہیں فقط کامل خدا تم ہو مرے ہر ورد کی دُکھ کی مصیبت کی دوا تم ہو رجا تم ہو غنا تم ہو شفا تم ہو رضا تم ہو جفا میں ہوں و خاتم ہو دُعا میں ہوں عطا تم ہو طلب میں ہوں سخا تم مو غرض میرے پیا تم ہو مرا دن تم سے جنگ لگ ہے مری شیم سے بھی کم مرے شمس التھی تم ہو مرے بدر الدجی تم ہو تمہیں مخفی ہو ہر کے میں تمہی ظاہر ہو ہوتے ہیں ازل کی ابت را تم ہو ایک کی انتہہ تم ہو ہر اک ذرے میں جلوہ دیکھ کر کہتی ہیں یہ آنکھیں تمہی تم ہو تمہی تم ہو خدا جانے کہ کیا تم ہو اس شعر پر حضرت میر صاحب نے یہ نوٹ دیا ہے۔یہ مناجات بنا کر ہمیں ایک دن آدھی رات کو اسے پڑھ رہا تھا جب اس شعر پر پہنچا تو مجھے انوار و برکات و قبولیت کا شدت سے احساس ہو۔اس پر میں نے اس وقت آخری شعر میں اس کا ذکر کمر کے مناجات