مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 157
104 میں کام لائے ہیں کہ ہر مصرعہ اس قطعہ کا جزو لاینفک بن گیا ہے جس میں وہ استعمال کیا گیا۔اسی طرح آپ نے عربی فقرات اور مہندی محاورات استعمال کرنے سے بھی احتراز نہیں کیا بلکہ بڑی چابکدستی سے ان فقرات یا محاورات کو اپنے حسب منشاء استعمال کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں :- اعمال صالحہ کبھی تو چاہیے اے دوست آخرت کا خیال کبھی تو عیش کو چھوڑ اور عمل کا وقت نکال نہ کام آئیں گے عقبی میں مال اور دولت که مال تالب گورست و بعد ازاں اعمال ذات اس کی ہے خیبر محض اسے دوست رحم ہے مغز اور سزا ہے پوست سکھ ہے نعمت تو دکھ علاج ترا هرچه از دوست میرسد نیکوست » نہ بن تو کسی کا بھی دشمن دلائل کو دیکھ اور نشانات روشن نہ کر سوکنوں کی طرح عیب چینی پیا جس کو چاہیں رہی ہے سہاگن