حُسنِ اخلاق — Page 43
86 85 نے فرمایا میری گردن چھوڑو تو میں مال دوں مگر اس اعرابی نے کہا میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔صحابہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نے اعرابی کی یہ بات سنی تو ہم اس کی طرف دوڑے اس پر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے فرمایا میں تم کو تاکیدی حکم دیتا ہوں کہ جب تک میں نہ کہوں تم میں سے کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ارشاد فرمایا کہ اس کے ایک اُونٹ پر جو اور ایک اونٹ پر گندم لا د دو پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے۔(نسائی کتاب حدیث 4694) فرمودات حضرت مسیح موعود نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں بدی کی جزا اُسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخش دے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو یعنی عین عفو کے محل پر نہ غیر محل پر تو اس کا وہ بدلہ پائے گا قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ مخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہیے کہ وہ محل اور موقعہ گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقعہ بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 351) گالیاں سُن کر دُعا دو پا کے دُکھ آرام و رو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار دار مین صفحه 144 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا غصہ پر قابو ر کھنے کا واقعہ 1904ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور آئے اور میاں معراج الدین صاحب کے مکان پر اُترے تھوڑے ہی عرصے کے بعد ایک مولوی تانگے پر سوار ہو کر اس طرف آیا اور حضور کو گالیاں دینا شروع کر دیں بالآخر جب اس طرح گالیوں کو کارگر نہ دیکھا تو ٹانگے سے اتر کر سڑک پر جو ایک درخت تھا اس پر چڑھ گیا اور حضور کو گالیاں دینی شروع کیں بعض آدمی اس کی گالیاں کو سُن کر جوش میں آنے لگے تو حضور نے فرمایا۔کہ جو کچھ کہتا ہے اسے کہنے دو اور کوئی جواب نہ دو قال اللہ تعالیٰ ( رفقائے احمد جلد 10 ص 175 ) بشاشت اور ملاطفت 1 - ترجمہ: اور لوگوں سے نیک بات کہا کرو۔“ 66 (البقره: 84) 2- ترجمہ: یقیناً میرا رب جس کے لئے چاہے بہت لطف و احسان کرنے والا ہے۔بے شک وہی دائی علم رکھنے والا ( اور ) بہت حکمت والا ہے۔“ (یوسف :101) 3 - ترجمہ: اللہ اپنے بندوں کے حق میں نرمی کا سلوک کرنے والا ہے وہ جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے 66 اور وہی بہت طاقتور ( اور ) کامل غلبہ والا ہے۔“