حُسنِ اخلاق — Page 67
134 133 جب پہلی ہی منزل پر خطا کی تو پھر منزل مقصود پر پہنچنا مشکل ہے۔بدظنی بہت بُری چیز ہے۔انسان کو بہت سی نیکیوں سے محروم کر دیتی ہے اور پھر بڑھتے بڑھتے نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ انسان خدا پر بدظنی شروع کر دیتا ہے۔66 ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ (375) 2۔بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان ان میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں جوان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے مثلا گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی بات سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت بڑا قرار دیا ہے چنانچہ فرمایا ہے۔أَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَّا كُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا (الحجرات: 13) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پیدا ہو۔یہ سب بُرے کام ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 653-654) ہیں۔3" ہر شخص میں محبت اپنے ظن کی نسبت سے ہوتی ہے۔انا عِندَ ظَنِّ عَبْدِی بسی سے یہی تعلیم ملتی ہے۔صادق عاشق جو ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ پر حسن ظن رکھتا ہے کہ وہ اس کو کبھی نہیں چھوڑے گا خدا تعالیٰ تو وفاداری کرنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ انسان صدق دکھلاوے اور اس پرظن نیک رکھے کہ تا وہ بھی وفا دکھلائے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 35) بہتیری بد ظنیاں جھوٹیاں ہیں اور بہتیری لعنتیں اپنے پر ہی پڑتی ہیں سنبھل کر قدم رکھو۔“ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد ۱۹ص۳۱) دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔“ واقعہ ( ملفوظات جلد ۸ص۴۶۶ص) حضرت مولانا عبد الکریم سیالکوٹی لکھتے ہیں محمود چار برس کا تھا۔حضرت معمولاً اندر بیٹھے لکھ رہے تھے۔میاں محمود دیا سلائی لے کر وہاں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک غول بھی تھا کچھ دیر تک آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جو کچھ دل میں آئی اُن مسودات کو آگ لگا دی اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجانے اور حضرت لکھنے میں مصروف ہیں سر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مسودے راکھ بن گئے اور بچوں کو کسی اور مشغلہ نے اپنی طرف کھینچ لیا۔حضرت کو سیاق عبارت کے ملانے کے لئے کسی گزشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت ہوئی اس سے پوچھتے ہیں خاموش۔اُس سے پوچھتے ہیں دبکا جاتا ہے۔آخر ایک بچہ بول اُٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دیئے۔عورتیں ، بچے اور گھر کے سب لوگ حیران اور انگشت بدنداں کہ اب کیا ہو گا اور درحقیقت عادتاً ان سب کو اعلیٰ قدر مراتب بُری حالت اور مکروہ نظارہ کے پیش آنے کا گمان اور انتظار تھا مگر حضرت مسکرا کر فرماتے ہیں خوب ہوا اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی مصلحت ہوگی اور اب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے بہتر مضمون سمجھائے۔حضرت اقدس کو اپنے خدا پر اس قدر یقین و ایمان تھا۔اس قدر حسن ظن تھا کہ وہ ضرور اس سے بہتر مضمون دکھا دے گا آپ اپنے مضامین کو اور کتب کو