حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 63 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 63

126 125 4- ترجمہ: اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی (النحل: 115) عبادت کرتے ہو۔“ 5- ترجمہ:۔پس میرا ذکر کیا کرو میں بھی تمہیں یاد 66 رکھوں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو۔“ (البقره:153) 6- ترجمہ: اے آل داؤد! (اللہ کا) شکر بجا لاتے ہوئے (شکر کے شایانِ شان) کام کرو۔اور تھوڑے ہیں میرے بندوں میں سے جو درحقیقت ) شکر ادا کرنے والے ہیں (سبا:14) 7- ترجمہ: اے میرے ربّ! مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجالاؤں جن سے تو راضی ہو اور میرے لئے میری ذریت کی بھی اصلاح کر دے یقینا میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور بلاشبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔“ (الاحقاف: 16) قرآن کریم نے جہاں شکر گزاری کے فائدے بیان فرمائے ہیں وہاں ساتھ ہی نعماء پر سچے شکریہ کی دعا بھی سکھائی ہے۔8- ترجمہ: اے میرے رب! مجھے توفیق بخش کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر کی اور میرے ماں باپ پر کی اور ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جو تجھے پسند ہوں۔اور تو اپنی رحمت سے اپنے نیکو کار بندوں میں (النحل: 20) داخل کر 66 قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1- بارش ہوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم نے بدن پر قطرہ لیا اور شکر کیا اس لئے کہ بارش کا قطرہ خدا کی تازہ نعمت تھا۔(ابو داؤد کتاب الادب باب القطر ) 2- نیا لباس پہنا تو اس خدا کا شکر ادا کیا جس نے تن ڈھانپنے اور جمال کے لئے لباس عطاء فرمایا اور پرانا لباس صدقہ کر دیا۔(ترمذی باب الدعوات) 3- تہجد کے لئے اُٹھتے تو شکر ادا فرماتے اے پروردگار ! تیرا شکر ہے تیرے لئے ہی حمد ہے تو آسمانوں کے قیام کا موجب ہے۔اللہ تیرا شکر ہے اتنا شکر جس سے زمین و آسمان اور ان کے درمیان فضا بھر جائے اور اس سے بھی زیادہ۔( ترمذی کتاب الدعوات) 4- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے تو خواہ وہ کتنا ہی معمولی ہوتا دل سے اللہ کا شکر بجالاتے سب تعریف اس ذات کے لئے ہے جس نے مجھے کھلایا مجھے پلایا اور مجھے مسلمان بنایا۔(شمائل ترمذی) 5- دعا کے لئے ہاتھ اُٹھتے تو خدا کے شکر سے بات شروع ہوتی آپ نے فرمایا جب انسان دعا میں توحید کا اقرار کرے اسی کے لئے حکومت اور حمد قرار دے اور خدا سے بخشش مانگے تو خدا اُس کی دعا قبول کرتا ہے۔(ترمذی) 6- بازار تشریف لے جاتے تو دعا میں حمد الہی کا ذکر کرتے آپ ﷺ نے فرمایا جو یہ دعا پڑھے گا اس کے نامہ اعمال میں نیکیاں لکھ دی جائیں گی کہ ہمارا خدا بڑا دیائو ہے اس کی رحمت کی کوئی حد و بست نہیں اس کے خزانے نہ ختم ہونے والے ہیں وہ رحیم و کریم آقا ہے۔سفر پر روانہ ہوتے یا واپس آتے تو حمد وشکر سے لبریز ہوتے آپ نے دعا