حُسنِ اخلاق

by Other Authors

Page 55 of 74

حُسنِ اخلاق — Page 55

110 109 ہے یعنی صدق ہی وہ خلق ہے جس سے مجھے خدا سے ملایا گیا ہے اور اس کے ہمرنگ کر دیا ہے۔2- حضرت حسن بن علی بیان کرتے ہیں کہ مجھے آنحضور کا یہ فرمان اچھی الشفاء جلد اوّل ص 55 مکتبہ نعیمیہ لاہور ) طرح یاد ہے کہ شک میں ڈالنے والی باتوں کو چھوڑ دو شک سے میرا یقین تلاش کرو کیونکہ یقین بخش سچائی اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ اضطراب اور پریشانی کا موجب ہوتا ہے۔( بخاری کتاب البیوع باب تفسير الشبهات ابواب القيامة) 3۔حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا لکھ لیا کرتا تھا اور اس کو حفظ کرتا تھا۔قریش کے بعض لوگوں نے مجھے روکا اور کہا کہ تم حضور کی ہر بات لکھ لیتے ہو حالانکہ حضور انسان ہیں اور خوشی اور غصے میں بھی کلام فرماتے ہیں۔میں نے اس بات کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا ضرور لکھو خدا کی قسم اس منہ سے حق و حکمت کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔(مستدرک حاکم جلد اول ص 105 باب العلم ) 4- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! تم صدق کو لازم پکڑو اور ہمیشہ سچ بولو کیونکہ صداقت نیکی کی طرف راہنمائی کرتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔(مسلم كتاب البر والصلة باب قبح الكذب و حسن الصدق) 5- آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص قید ہو کر آیا جو بہت سے مسلمانوں کے قتل کا موجب بن چکا تھا۔حضرت عمرؓ کا یہ خیال تھا کہ یہ شخص واجب القتل ہے اور وہ بار بار حضور کے چہرے کی طرف دیکھتے تھے کہ اگر آپ اشارہ فرمائیں تو وہ اسے قتل کر دیں جب وہ شخص اُٹھ کر چلا گیا تو حضرت عمرؓ نے کہا۔یا رسول اللہ ! یہ شخص تو واجب القتل تھا۔آپ نے فرمایا اگر واجب القتل تھا تو تو نے اُسے قتل کیوں نہ کیا ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ آنکھ سے اشارہ کر دیتے تو میں ایسا کر دیتا۔آپ نے فرمایا نبی دھو کے باز نہیں ہوتا یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ میں منہ سے اس سے پیار کی باتیں کر رہا ہوتا اور آنکھ سے اُسے قتل کرنے کا اشارہ کرتا۔(ابن ہشام جلد 2 صفحہ 217) واقعه فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ ڈاک خانہ 1877 میں امرتسر کے ایک عیسائی وکیل رلیا رام نے آپ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا جس کی تفصیل میں حضرت اقدس نے شیخ محمد حسین بٹالوی کے نام خط میں اپنی راست بازی بیان کرتے ہوئے فرمایا۔اس عاجز نے (دین) کی تائید میں آریوں کے مقابل پر ایک عیسائی کے مطبع میں جس کا نام رلیا رام تھا اور وہ وکیل بھی تھا اور امرتسر میں رہتا تھا اور اس کا ایک اخبار بھی نکلتا تھا ایک مضمون بغرض طبع ہونے کے ایک پیکٹ کی صورت میں جس کی دونوں طرفیں کھلی تھیں بھیجا اور اس پیکٹ میں ایک خط بھی رکھ دیا چونکہ خط میں ایسے الفاظ تھے جن میں (دین) کی تائید اور دوسرے مذاہب کے بطلان کی طرف اشارہ تھا اور مضمون کے چھاپ دینے کے لئے تاکید بھی تھی۔اس لئے وہ عیسائی مخالفت مذہب کی وجہ سے افروختہ ہوا اور اتفاقاً اس کو دشمنانہ حملہ کے لئے یہ موقع ملا کہ کسی علیحدہ خط کا پیکٹ میں رکھنا قانو نا ایک جرم تھا جس کی اس عاجز کو کچھ بھی اطلاع نہ تھی اور ایسے جرم کی سزا میں قوانین ڈاک کے رُو سے پانچ سو روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ تک قید ہے سو اس نے مخبر بن کر افسران ر ڈاک سے اس عاجز پر مقدمہ دائر کرا دیا اور قبل اس کے جو مجھے اس مقدمہ کی کچھ اطلاع ہو رویاء میں اللہ تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا کہ رلیا رام وکیل نے ایک سانپ میرے کاٹنے کے لئے مجھ کو بھیجا ہے اور میں نے اسے مچھلی کی طرح