حُسنِ اخلاق — Page 44
88 87 تھا 66 (شوری:20) -4- ترجمہ: یقیناً ابراہیم بہت نرم دل (اور ) برد بار (التوبہ: 114) 5- ترجمہ: ” پس اس سے نرم بات کہو۔ہوسکتا ہے وہ نصیحت پکڑے یا ڈر جائے۔“ (45:') 6- ترجمہ: پس اللہ کی خاص رحمت کی وجہ سے تُو اُن کے لئے نرم ہو گیا۔اور اگر تو تند خو (اور ) سخت دل ہوتا تو وہ ضرور تیرے گرد سے دُور بھاگ جاتے “ (ال عمران: 160) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 1- حضرت عائشہ صدیقہ بیان فرماتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نرمی کرنے والا ہے نرمی کو پسند کرتا ہے نرمی کا جتنا اجر دیتا ہے اتنا سخت گیری کا نہیں دیتا۔بلکہ کسی اور نیکی کا بھی اتنا اجر نہیں دیتا۔(مسلم کتاب البر والصلة باب فضل الرفق) 2- حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی چیز میں جتنا بھی رفق اور نرمی ہو اتنا ہی یہ اس کے لئے زینت کا موجب بن جاتا ہے اور جس سے رفق اور نرمی چھین لی جائے وہ اتنی ہی بدنما ہو جاتی ہے یعنی رفق اور نرمی میں ہی حسن ہے۔(مسلم کتاب البر والصلة باب فضل الرفق) 3۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو نرمی سے محروم رہا وہ بھلائی سے محروم رہا اور فرمایا تین خصلتیں جس شخص میں ہوں گی خدا اپنے سایہ کو اس پر پھیلائے گا اور اس کو جنت میں داخل کرے گا یعنی کمزور کے ساتھ نرمی کرنا ماں باپ پر مہربانی کرنا اور غلام پر احسان کرنا۔( صحیح مسلم و ترمذی ابواب الزھد ) 4۔حضرت ابن مسعود بیان کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں آگ کس پر حرام ہے؟ آگ حرام ہے ہر اُس شخص پر جو لوگوں کے قریب رہتا ہے یعنی نفرت نہیں کرتا ان سے نرم سلوک کرتا ہے ان کے لئے آسانی مہیا کرتا ہے اور سہولت پسند ہے۔( ترمذی صفۃ القیامة ) واقعہ نمبر 1 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا لوگ کھڑے ہو گئے کہ اس پر ٹوٹ پڑیں اور پکڑ لیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور پانی کا ڈول بہا دو ( تا کہ پیشاب کا اثر زائل ہو جائے ) کیونکہ تمہیں آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجا گیا تنگی کرنے والے اور سختی سے پیش آنے والے بنا کر نہیں بھیجا گیا۔واقعہ نمبر 2 ( صحیح بخاری جلد اوّل صفحہ 189 حدیث 217) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی۔اس وقت آپ کے پاس ازواج مطہرات میں سے قریشی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں اور آپ سے سوال کر رہی تھیں کی عطیات بڑھا دیئے جائیں اور وہ اونچی آواز سے گفتگو کر رہی تھیں جب حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی تو وہ پردے میں چھپ گئیں۔پس بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور یہ اندر داخل ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تبسم ریز تھے۔عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو ہنساتا ہے۔آپ نے فرمایا مجھے ان عورتوں پر تعجب