ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 55
ایمبرا گریسا 15 55 ایمبرا گریسا AMBRA GRISEA (Ambergis-A morbid Secretion of the Whale) ایمبرا گریسا دبلے پتلے، زودرنج، چڑ چڑے اور جلد غصہ میں آجانے والے بچوں اور بڑوں کی دوا ہے۔زود حسی اس کی نمایاں علامت ہے۔کم عمری میں ہی توازن کھو دینے اور چکرانے کا رجحان ملتا ہے جیسے بہت بوڑھے لوگوں میں طبعی طور پر یہ عارضہ پایا جاتا ہے۔لہذا یہی دوا معمر مریضوں کی عمومی بیماریوں میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ایمبرا گر یا کامریض عموما غم میں ڈوبا رہتاہے خواہ کوئی معین غم اس کے ذہن میں نہ بھی ہو۔یہ ایسے مریضوں کی دوا ہے جو طبعاً اور فطرتا غمگین ہوں، ان کا رجحان اندھیرے میں بیٹھا رہنے کی طرف ہو، بات بات پر دل ڈوبتا ہوا محسوس ہو اور زندگی کی کوئی خواہش باقی نہ رہے۔ہر چیز سے بیزار اور بے پرواہ ہو جائے۔اگر ان علامتوں کے ساتھ وقت سے بڑھاپے کی جسمانی علامتیں بھی ظاہر ہوں تو ان کا علاج ایمبرا گر لیسا ہے۔ایسے مریضوں کو چکر بہت آتے ہیں۔سر اور معدہ میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے ، پیشانی پر بوجھ ، دماغ میں شدید درد کی لہریں اٹھتی ہیں ،غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔حافظہ کمزور ہوتا ہے۔سرکی بیرونی علامتوں میں بالوں کا تیزی سے جھڑنا شامل ہے۔ایسے مریض کی نکسیر پھوٹے تو بہت زیادہ پھوٹتی ہے اور دانتوں سے جریان خون ہو تو بہت زیادہ ہوتا ہے۔معدے میں ہوا بہت پیدا ہوتی ہے اور ڈکار ایسے آتے ہیں جیسے کھٹاس بہت ہو لیکن اس کے ساتھ معدے میں جلن کی بجائے ٹھنڈک کا احساس پایا جاتا ہے۔ذہنی انتشار اس کی ایک طبعی علامت ہے۔سرسن ہونے کا احساس جو تمام جسم میں پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔