ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 831
انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 832 7۔آنکھوں کی تکالیف آنکھوں میں سوزش ہو جائے تو ایکونائٹ (Aconite) اور بیلاڈونا (Belladonna) ملا کر کسی بھی طاقت میں فوراً دے دینی چاہئے۔اگر فوری افاقہ نہ ہو تو ان ابواب کا مطالعہ کریں جن میں خصوصیت سے آنکھوں کی بیماریوں کا ذکر ملتا ہے۔یہ ابواب حسب ذیل ہیں: ایسکولس ایلیومینا آرنیکا یو فریزیا Aesculus Alumina Arnica Euphrasia ایتھوزا ایمیس کونیم ہپر سلف Hepar Sulph ملی فولیم سورا ئینم Psorinum Aethusa Apis Conium Gelsemum Millefolium یہ سب بہت کام کی دوائیں ہیں۔ان کے مطالعہ کے دوران معالج کو آنکھ کی اکثر بیماریوں کا ذکر مل جائے گا۔ذیل میں نمونیا آنکھ کی بیماریوں اور ان کے علاج کا نسبتاً تفصیل - ذکر کیا جا رہا ہے۔اگر آنکھوں کے وہ ریشے جن میں خون گردش کرتا ہے کمزور پڑ جائیں اور ذرا سا دباؤ بھی برداشت نہ ہو ، آنکھیں ہمیشہ سرخ رہیں تو بعض ڈاکٹر اس بیماری کو آنکھوں کی بواسیر کہتے ہیں ، اس میں ایسکولس (Aesculus) 30 بہت مفید ہے۔ورنہ اس بیماری کے مزید بڑھ جانے سے آنکھ ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔آنکھوں میں سوزش رہنے سے گومڑ بن جائیں تو اس میں بھی ایسکولس مؤثر دوا ہے۔بعض دفعہ آنکھ کے چھپر موٹے ہو کر اوپر کی طرف الٹ جاتے ہیں اور اندر کی سرخی نمایاں ہو کر آنکھیں بہت بھیانک شکل اختیار کر لیتی ہیں، پلکیں جھڑنے لگتی ہیں۔ایسی صورتوں میں سورائینم (Psorinum) ،