ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 819
انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 820 (Silicea)، نیٹرم میور (Natrum Mur)، سورائینم (Psorinum) اور کالی کار (Kali Carb) میں مشترک ہے۔کالی کا رب میں کمر کی دکھن پچھلے پہر تین چار بجے بڑھ جاتی ہے جبکہ نیٹرم میور میں صبح سے شام تک دن بھر رہتی ہے۔اگر گرمی سے تکلیف بڑھے تو پلسٹیلا (Pulsatilla) اور ایپس (Apis) دونوں کام آ سکتی ہیں۔دونوں میں پیاس کم اور رطوبت عموماً گاڑھی ، زرد رنگ کی ہوتی ہے لیکن پلسٹیلا کا مریض نرم مزاج ہو گا جبکہ ایپس کا مریض چڑ چڑا ہو گا اور عضلات میں ڈنک لگنے کی طرح کے تیز لہر دار درد ہوں گے اور پیشاب میں کمی اور گردوں میں سوزش ہوگی۔کالی بائیکروم (Kali Bichrom) پرانے ضدی نزلہ میں مفید ہے۔گاڑھی لیس دار زرد رطوبت نکلتی ہے جس کے ساتھ پیچھے ناک کی جڑھ میں درد ہوتا ہے۔مادہ گاڑھا اور جڑا ہوا دھاگوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔موسم بہار میں Hay Fever اور الرجی کی وجہ سے چھینکوں کے دورے شروع ہوں تو سباڈیلا (Sabadilla) ضروری ہے لیکن اگر الرجی خزاں کے موسم میں ہو اور چھینکیں آئیں اور آنکھوں سے سادہ پانی ہے جو خراش نہ پیدا کرے نیز نزلہ کا اثر کانوں پر بھی ہو تو سباڈیلا کی بجائے ایلیم سیپا Allium Cepa) دوا ہوگی۔اگر آنکھوں سے جلن پیدا کرنے والا پانی ہے جو سوتے میں گلے اور چھاتی پر گر کر خارش اور کھانسی کا موجب بنے تو یوفریز یا(Euphrasia) دوا ہوگی۔موسم بہار کی الرجی کے مستقل علاج کے لئے لیکیسس (Lachesis) 1000 بہت اچھا کام کرتی ہے جسے سباڈیلا سے آرام آنے کے بعد بیماری کی بیخ کنی کے لئے لمبے وقفوں کے ساتھ چند ماہ استعمال کرنی چاہئے۔جب بھی مرطوب موسم ہو یا جلد جلد موسمی تبدیلیاں واقع ہوں تو نزلاتی اور جلدی بیماریوں میں ڈلکا مارا (Dulcamara) بہترین دوا ثابت ہوتی ہے۔اس کے زکام سے ناک بند ہو جاتا ہے،صرف ہلکا ہلکا پانی رستارہتا ہے۔اگر کمزوری، بے چینی اور جلن بہت ہو لیکن گرمی سے آرام آئے تو آرسینک