ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 630 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 630

نیٹرم فاس 630 مسوڑھوں سے خون بہتا ہے۔زبان پر زرد رنگ کی تہ جم جاتی ہے۔تالو میں بھی زردی پائی جاتی ہے۔منہ اور زبان خشک ہوتے ہیں۔دانت گل جاتے ہیں۔بچے رات کو دانت پیتے ہیں۔زیادہ میٹھا کھانے کی وجہ سے دانتوں میں سوراخ ہوں تو نیٹرم فاس بھی اس کی ایک دوا ہے۔تیزاب کی زیادتی کی وجہ سے معدے میں السر ہوں اور پھوڑے کا سا درد اور سوئیاں چھنے کا احساس ہو تو نیٹرم فاس کام آ سکتی ہے۔اسہال کا قبض سے بدلنا دواؤں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔اگر ایسے مریض کا مزاج نیٹرم فاس سے ملتا ہو تو نیٹرم فاس بھی اس تکلیف کا ازالہ کرسکتی ہے۔پیٹ کے کیڑے بھی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔کئی بچے رات کو بستر میں پیشاب کر دیتے ہیں، اس میں نیٹرم فاس کو کالی فاس اور نیٹرم میور کے ساتھ ملا کر دینا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔اگر پسینہ بہت آئے تو پیشاب کی مقدار کم ہو جاتی ہے لیکن نیٹرم فاس میں یہ عجیب بات ہے کہ پسینہ بھی زیادہ اور پیشاب بھی زیادہ آتا ہے۔شوگر کی زیادتی سے تعلق رکھنے والی زنانہ و مردانہ جنسی بیماریوں میں نیٹرم فاس مفید ثابت ہوسکتی ہے۔اگر رحم اپنی جگہ سے مل جائے اور اس وجہ سے حمل نہ ٹھہرتا ہوتو نیٹرم فاس حمل میں حائل روک کو دور کرسکتی ہے بشرطیکہ رحم کو اپنے اصل مقام کی طرف واپس لے جائے۔نیٹرم فاس اس کھوکھلی کھانسی میں بھی مفید ہے جو سینہ اور حجرہ میں سرسراہٹ کے ساتھ پیدا ہو۔نیٹرم فاس کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ دل سے ایک بلبلہ سا اٹھتا ہے جو خون کی شریانوں میں جاتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔سینہ میں تنگی اور جکڑن کا احساس ہوتا ہے۔بے چینی ہوتی ہے اور سینہ کے اوپر والے حصہ میں بھراؤ کا احساس ہوتا ہے۔بعض اوقات درد بھی ہوتا ہے۔کھانے کے بعد اور گہرا سانس لینے سے نالیاں سکڑتی ہیں اور دل کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، گھبراہٹ ہوتی ہے۔شور وغل سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔بائیں کروٹ لیٹنے سے بھی ان سب تکلیفوں میں اضافہ ہو جاتا ہے جو دل کی بیماری کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔سیڑھیاں چڑھنے سے دل کی