ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 545 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 545

545 کے لئے ہمیشہ اپنے پاؤں کا معائنہ کرتے رہنا چاہئے۔اگر پاؤں دھوتے ہوئے ٹخنوں کے دونوں طرف نیچے اور ایڑھی سے اوپر نیلے رنگ کے نشان ظاہر ہونے لگیں تو یہ اس بات کا نشان ہیں کہ خون کی نیلی رگوں میں خرابی پیدا ہورہی ہے اور وہاں خون جم سکتا ہے۔اگر وہ رگیں پھول جائیں اور کچھے سے بنے لگیں تو یہ مرض ہاتھ سے نکل بھی سکتا ہے اور ایسے مریض کی وریدوں میں اچانک ایسا Clot بھی بن سکتا ہے جو دل کے حملے پر منتج ہو۔اگر آغاز میں ہی پتہ چل جائے تو خدا کے فضل سے آرنیکا اور کیس حفظ ما تقدم کے طور پر بہت اچھا کام کرتی ہیں۔شنگلز (Shingles) کی بیماری میں جیسا کہ بعض دوسرے ابواب میں بھی تفصیلی ذکر گزر چکا ہے آرنیکا، ایڈم پال لیکلیس اور نیٹرم میور مفید ثابت ہوتی ہیں۔لیکیس میں ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں اور دل کمزور ہو جاتا ہے، سر میں تپکن ہوتی ہے اور رگیں پھڑکتی ہیں۔اگر سر میں درد ہو تو بعض اوقات مریض تکیہ پر سر رکھ کر سو بھی نہیں سکتا۔جس طرف بھی سر رکھے گا وہاں دھڑکن محسوس ہوگی کیونکہ خون کا رجحان سر کی طرف ہوتا ہے۔لیکیس انسانی جذبات پر بھی اثر انداز ہونے والی دوا ہے۔اگر اچانک غم کی کوئی خبر ملے یا مریض کسی وجہ سے جذباتی ہو جائے تو دل کی رفتار ہلکی ہو جاتی ہے، جسم پر پسینہ آ جاتا ہے، سرگرم اور پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔اگر پاؤں ٹھنڈے ہوں اور لیکیسس کی معمول کی علامتیں بھی پائی جائیں تو اس کی ایک خوراک ہی جادو کا سا اثر دکھاتی ہے۔سردی سے سخت کانپتا ہوا مریض جو تہ بہ ن لحاف میں لپٹا ہوا ہو اور اس کے پاؤں نا قابل برداشت حد تک ٹھنڈے ہوں ، دوا دینے کے چند منٹ بعد ہی یوں محسوس کرتا ہے کہ یکدم گرمی کی لہریں جسم میں اوپر سے نیچے کی طرف سرایت کر گئی ہیں۔اس سے میرا اندازہ ہے کہ سر کی طرف رجحان خون ختم ہوکر تمام جسم میں یکساں ہو جاتا ہے اور پاؤں دیکھتے ہی دیکھتے گرم ہو جاتے ہیں۔سورا کالم میں بھی یہ خوبی پائی جاتی ہے۔لیکن فرق یہ ہے کہ سورائینم کے مریض کا سارا جسم ہمیشہ ٹھنڈا رہتا ہے۔سورائینم کے مریض گرمیوں