ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 534 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 534

لیک ڈیف 534 ماؤف ہو جاتا ہے اور جو کیمیائی رطوبات وہاں بننی چاہئیں ان کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔ایک ڈیف کا اس مرض میں مفید ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ چکنائی کے بداثرات کو دور کرتی ہے۔لیک ڈیف کے مریض میں غم کا احساس بھی پایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں موت کی خواہش بڑھ جاتی ہے اور مریض ایسا طریقہ ڈھونڈتا ہے جس میں سب سے زیادہ آسانی سے موت واقع ہو۔ایسا مریض متشدد نہیں ہوتا۔اس کی اداسی میں نرمی پائی جاتی ہے اور وہ موت میں بھی آسانی ڈھونڈتا ہے کہ مرتے ہوئے زیادہ تکلیف نہ ہو۔مشہور شاعر غالب بھی لیک ڈیف کا مریض معلوم ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے۔ڈھونڈے ہے اس مغنی آتش نفس کو جی جس کی صدا ہو جلوہ برق فنا مجھے یعنی دل ایسے مغنی ( گانے والے) کو ڈھونڈ رہا ہے جس کی آواز میں ایسا سوز ہو جس سے فنا کی بجلی چمکے اور انسان آنا نا نا بغیر تکلیف کے احساس کے مرجائے۔یہ تو مرنے کا بہت عمدہ طریقہ ہے لیکن افسوس! اسے کوئی ایسا مغنی ملا نہیں۔لیک ڈیف کے مریض کو ہاتھ اونچا کرنے سے بھی چکر آتے ہیں۔اس کے سر کے چکر کو نیم (Conium) سے مشابہ ہیں۔کو نیم میں لیٹ کر ذراسی کروٹ بدلتے ہوئے یا آنکھ کی حرکت سے بھی چکر آتے ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے بستر گھوم گیا ہے۔لیک ڈیف میں بھی یہی کیفیت ہوتی ہے جبکہ ایک کینا ئینم میں چلتے ہوئے چکر آتے ہیں مگر مریض کو محسوس ہوتا ہے کہ ساری کائنات بہت لطیف انداز سے گھوم رہی ہے اور وہ پریوں کے دیس میں چلا گیا ہے۔اس علامت کا فلک سیر یعنی بھنگ سے بھی تعلق ہے جس میں مریض کو ہواؤں میں پھرنے اور تیرنے کا احساس ہوتا ہے۔اس کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کا احساس متاثر ہوتا ہے۔کبھی لگتا ہے کہ ایک سیکنڈ میں سارا زمانہ گزر گیا ہے کبھی غم اور تکلیف کے دور میں وقت گزرتا ہی نہیں اور ہرلمحہ لمبا ہوتا جاتا ہے۔لیک ڈیف میں یہ عجیب کیفیت ہوتی ہے کہ وقت مزے کے احساس کے