ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 493
کالی بائیکروم 493 ہوتا ہے۔عمومادمہ میں ایسی آواز میں نکلتی ہیں۔کیونکہ نالیاں سکڑ جاتی ہے اور شیخ بھی ہوتا ہے اس لئے خرخراہٹ ہوتی ہے۔کالی کھانسی کے لئے بھی یہ مفید ہے۔کالی بائیکروم کی نزلاتی تکلیفیں سردیوں کے نمدار موسم میں زیادہ ہو جاتی ہیں۔گرمیوں میں برسات کے موسم میں اسہال لگ جاتے ہیں۔بستر میں لیٹ کر آرام محسوس ہوتا ہے۔کالی بائیکروم میں بلغم سبزی مائل ہوتی ہے۔بلغم کے ساتھ خون کے لوتھڑے بھی آنے لگتے ہیں۔پھیپھڑوں کی وق میں کالی بائیکر دوم اور کالی کا رب بہت مفید دوائیں ہیں۔پوٹاشیم کے نمکیات کا پھیپھڑوں میں سوراخ واقع ہونے اور ان سے خون کے اخراج سے بہت گہرا تعلق ہے۔کالی بائیکروم میں کالی کارب اور اپی کاک کی طرح پیٹھ میں سردی کا احساس ہوتا ہے۔البتہ کالی کا رب میں سردی کا یہ احساس پیٹھ کے نچلے حصہ تک محدود رہتا ہے جبکہ کالی بائیکروم میں اپی کاک کی طرح گردن تک سردی کی لہریں جاتی ہیں۔بائی کی دردیں حرکت سے بڑھ جاتی ہیں۔اس لحاظ سے یہ برائیو نیا سے مشابہ ہے۔صبح کے وقت درد میں شدت ہوتی ہے جو اٹھ کر چلنے پھرنے سے آہستہ آہستہ بکھرنے لگتی ہے۔رات آرام کرنے سے فائدہ ہوتا ہے مگر صبح تک دردیں ایک مقام پر سمٹ جاتی ہیں جو اٹھ کر چلنے پھرنے سے منتشر ہو جاتی ہیں۔کالی بائیکروم میں ہر قسم کی جلدی بیماریاں پائی جاتی ہیں۔ایگزیما، چھالے اور پھنسیاں نکلتی ہیں۔اگر جلد کی تکلیفوں کو مرہم وغیرہ لگا کر دبا دیا جائے تو وہ اندرونی جھلیوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔اس لئے کالی بائیکروم کی علامتوں کے ساتھ بیرونی طور پر ادویہ کے استعمال سے پر ہیز کرنا چاہئے۔دافع اثر دوائیں: آرسنک لیکیس پلسٹیلا طاقت 200030