ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 488
کالی بائیکروم 488 آنکھ سے دھاگے دار مواد نکلے تو اس میں بھی کالی بائیکروم بہت اچھی دوا ہے کیونکہ یہ آنکھوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔کالی بائیکروم میں اکثر درد بائیں طرف ہوتے ہیں لیکن دائیں طرف بھی ہو سکتے ہیں۔زیادہ تر سردرد اور چہرے کا اعصابی درد بائیں طرف ہی رہتا ہے۔سردرد کے ساتھ متلی بھی ہوتی ہے۔چند دنوں کے وقفہ سے درد عود کر آتا ہے۔یہ درد شقیقہ کے لئے بھی اچھی دوا ہے۔کالی بائیکروم سر کے ایگزیما کے لئے بہت اچھی ہے۔لیکن اگر ایگزیما میں سر کے زخموں سے زرد رنگ کا مواد خارج ہو اور چھلکے اتریں جن سے بہت بد بو آتی ہو تو یہ اولین طور پر میزیرم (Mezereum) کی علامات ہیں۔کالی بائیکروم میں میز یرم کی ایک اور علامت بھی پائی جاتی ہے کہ اگر ناک کی علامات ٹھیک ہو جائیں تو ایگزیما ہو جاتا ہے، ایگزیما ٹھیک ہو تو نزلہ شروع ہو جاتا ہے۔کالی بائیکروم میں ناک کے اندر گہرائی میں ایک خاص مقام ہوتا ہے جہاں سے نزلہ شروع ہوتا ہے۔گلے اور ناک کے جوڑ کے پاس جراثیم کی کمین گاہ بن جاتی ہے اور پھر ناک اور گلے سے اچانک نا قابل برداشت بدبو کے بھبھکے اٹھتے ہیں۔ان علامات میں کالی بائیکر وم اور میز برم مشترک ہیں لیکن میز یرم کا دائرہ اثر محدود ہے۔وہ اسی حصہ میں رہتی ہے لیکن کالی بائیکروم تمام جسم پر اثر انداز ہوتی ہے۔میز یرم کے ساتھ گرمی اور سردی کی علامات نہیں ہوتیں۔کالی بائیکر وم آنکھوں کی تکلیف کے لئے بھی بہت مفید ہے۔روشنی سے تکلیف کا بڑھنا،آنکھوں کے سامنے مختلف رنگوں کے دھبے ،نظر کا دھندلا جانا ، آنکھوں کے پردے کی تکلیفیں، کورنیا میں السر (Ulcer) ان سب کے لئے کالی بائیکر وم بہت مفید ہے۔اس کے زخم میں دھڑکن کا احساس ہوتا ہے۔آنکھ کے السر میں دھڑکن بہت تکلیف دیتی ہے اس لئے فوراً کالی بائیکروم دینی چاہئے۔یہ بہت زوداثر اور کارآمد دوا ہے۔آنکھ کے چھپر پر چھوٹے چھوٹے زخم بن جائیں یا جھلی پھول کر لٹک جائے۔آنکھیں سرخ رہنے