ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 386
فیرم فاس 386 عرصہ کھلانے کے بعد وقفہ ڈال کر دوبارہ شروع کرانا چاہئے۔اس طریق سے کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ فائدہ ہی پہنچتا ہے۔فیرم فاس میں بھوک کبھی کم ہو جاتی ہے اور کبھی بے حد زیادہ جومٹتی ہی نہیں۔یہ دونوں انتہا ئیں اس میں پائی جاتی ہیں۔یا حد سے زیادہ بھوک یا بھوک کا فقدان۔اس کے علاوہ وہ چیز میں جو نقصان پہنچاتی ہیں ان کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے اور جو چیزیں موافق آتی ہیں۔ان کی خواہش مٹ جاتی ہے۔گوشت وغیرہ سے نفرت ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں فیرم فاس دینے سے فائدہ ہوتا ہے۔کھانے کے بعد متلی ہوتی ہے متلی اگر حمل کے زمانے میں ہو تو اس میں فیرم فاس مفید ہے لیکن حمل کی متلی عموما کافی ضدی اور سخت ہوتی ہے۔محض فیرم فاس سے شاذ کے طور پر ہی فائدہ ہوتا ہے۔متلی کی اور بہت سی دوائیں ہیں جو خصوصیت سے حمل سے تعلق رکھتی ہیں۔ان سب پر عبور ہونا چاہئے۔متلی میں اب تک جتنی دوائیں استعمال کی گئی ہیں ان میں ایک نئی دوا پہلی (Pipli) ہے جو میں نے خود بنوائی ہے۔یہ نئی چیز ہے اور پیپل کے پتوں کی راکھ سے بنائی گئی ہے۔یہ عمل کی ضدی متلی دور کرنے میں مفید ثابت ہوئی ہے۔حمل کی متلی کے بارے میں میرا یہ نظریہ ہے کہ یہ بعض دفعہ الرجی سے پیدا ہوتی ہے۔بعض عورتوں کو بچے سے الرجی ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں متلی بہت سخت اور لمبا چلتی ہے۔امریکہ میں بھی یہ تحقیق ہوئی ہے کہ جن عورتوں کا حمل گر جاتا ہے یا حمل ٹھہرتا ہی نہیں ان میں سے چالیس فیصد عورتیں ایسی ہیں جن میں اپنے بچے کے خلاف ایک قسم کی الرجی ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں جسم کی دفاعی طاقتیں جنین (Embryo) پر حملہ کر دیتی ہیں۔مزید تحقیق سے یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ دراصل ہر عورت کو خود اپنے ہی حمل کے خلاف الرجی ہوتی ہے اور جسم کی دفاعی طاقتیں حرکت میں آکر رحم پر حملہ آور ہو جاتی ہیں۔لیکن جنین کے اردگرد تین قسم کے خول بنے ہوئے ہیں یعنی پلیسٹا ، رحم کی اپنی دیوار اور اس دیوار کے باہر کی جھلی۔ان کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ جسم کے اندر موجود دفاعی طاقت کے حملے کو روکنے کے لئے بذات خود ایک دفاعی طاقت رکھتے ہیں۔اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی بھی جنین کا قرار پکڑنا ناممکن ہو جاتا۔غالبا یہی وجہ ہے )