ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 384
فیرم فاس 384 بہت جلد بہنے کا رجحان رکھتا ہو۔ہیموفیلیا (Haemophilia) کے مریضوں میں بھی یہ تینوں مفید ہیں یعنی فاسفورس، ایسڈ فاس اور فیرم فاس۔فاسفورس ہومیو پیتھک دوا کی شکل میں خون کو گاڑھا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اگر یہ خون کو بہت گاڑھا کر دے تو مضر نتائج بھی ظاہر ہو سکتے ہیں اور دل کے حملہ کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے اس لئے فاسفورس کو لمبے عرصہ تک آنکھیں بند کر کے استعمال کرتے رہنا مناسب نہیں۔فاسفورس، ایسڈ فاس اور فیرم فاس استعمال کرنے والوں کا دو تین ماہ کے بعد خون کا ٹیسٹ ہونا چاہئے۔خون صرف اس حد تک گاڑھا ہونا چاہئے جو جریان خون کے رجحان کو ختم کر دے، اس کے بعد ان دواؤں کا استعمال روک دینا چاہئے۔دوبارہ خون پتلا ہونے کا رجحان ہو تو پھر شروع کروادیں۔فیرم فاس کے مریضوں کے عضلات بعض دفعہ بوجھ اٹھانے کی کوشش سے کھنچ جاتے ہیں اور ایسے مریضوں کو پھر تھوڑا سا بوجھ اٹھانے سے بھی ان عضلات میں ہمیشہ تکلیف ہوتی ہے۔ملی فولیم میں بھی یہ رجحان پایا جاتا ہے۔یہ دونوں دوائیں جریان خون کی بھی بہترین دوائیں ہیں۔جن مریضوں میں خون کی کمی ہو ان میں جلد غصہ آنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ایسے مریضوں کا پسینہ پھوٹ پڑتا ہے اور سارا جسم کانپنے لگتا ہے اور ان کا سارا غصہ اپنی ذات پر ہی ٹوٹتا ہے۔مریض بہت جلد جذباتی ہو جاتا ہے، کبھی خوش ہوتا ہے اور کبھی ہذیان بکتا ہے۔یہ فیرم فاس کی علامت ہے جو فاسفورس اور آئرن کے ملنے سے پیدا ہوتی ہے۔فیرم فاس کا مریض تنہار ہنا پسند کرتا ہے، دوسرے لوگوں کی موجودگی میں گھبراتا ہے۔شور بھی اس کے لئے نا قابل برداشت ہوتا ہے۔کبھی کبھی جوش میں آکر بہت بولتا ہے لیکن یہ اس کا دائمی مزاج نہیں ہے۔فیرم فاس کے مریض عموماً کم بولنے والے اور تنہائی پسند ہوتے ہیں۔سر درد میں ٹھنڈی ہوا سے فائدہ ہوتا ہے۔سیڑھیاں چڑھنے سے سردرد شدت اختیار کر جاتا ہے اور بعض دفعہ نظر آنا بھی بند ہو جاتا ہے۔دراصل یہ بھی خون کی کمی