ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 347

سائیکلیمن 347 ہوتا ہے لیکن کمزوری ہو تو مریض پسینہ سے تر بتر ہو جاتا ہے۔پیشاب مقدار میں بہت زیادہ، پانی کی طرح بالکل بے رنگ ، بار بار پیشاب کی حاجت ہوتی ہے۔یکلیمن کی بلغم میں سفیدی ہوتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ جراثیم کا حملہ بہت شدید نہیں ہے اور زیادہ اتیلن نہیں ہوئی۔پیسکلیمن میں دم گھٹنے والی کھانسی بھی ہوتی ہے۔ان حصوں میں جہاں ہڈیاں جلد کے بالکل نزدیک ہوں، درد ہوتا ہے۔دائیں ہاتھ میں انگوٹھے اور تشہد کی انگلی میں تشنج ہونے لگتا ہے جو لکھتے ہوئے کچھ بڑھ جاتا ہے۔پاؤں کی ایڑیوں میں پھوڑے کا سا درد ہوتا ہے۔بعض اوقات یہ درد ہڈی کے بڑھ جانے کی وجہ سے بھی ہوتا ہے۔اس کا زیادہ گہرا علاج کرنا پڑتا ہے، جس سے ہڈی مزید بڑھنا بند ہو جاتی ہے۔لیکن جہاں ہڈیاں بہت بڑھ گئی ہوں وہاں اپریشن کروانا پڑتا ہے۔جو دوائیں اس تکلیف کو کم کرنے میں ممد ہوتی ہیں ان میں آرنیکا، لیڈم، روٹا، کلکیر یا فلور اور رسٹاکس شامل ہیں اور کلکیر یا کا رب بھی مفید ہے۔سائیکلیمن میں خارش کو کھجلانے سے سکون ملتا ہے۔عورتوں میں حیض کا خون جاری ہونے پر خارش کو آرام آجاتا ہے۔طاقت: 30 سے 200 تک