ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 343

کیوپرم 343 کیو پرم اعضاء کے سکڑنے اور کھلنے والے عضلات پر یکساں اثر ظاہر کرتی ہے۔جب تی شیخ پیدا کرے تو درد ہوتا ہے اور جب عضلات کو ڈھیلا کر دے تو شعوری طور پر ان کو سنبھالا نہیں جاسکتا۔کیو پرم کے مرگی کے مریض کو اکثر دورے کے بعد شدید سر درد ہوتا ہے۔بعض دفعہ وضع حمل کے وقت مریضہ عارضی طور پر بینائی کھو بیٹھتی ہے۔بعض دفعہ حصل کے دوران یا وضع حمل کے وقت خون کا دباؤ بڑھ جانے سے دماغ کی رگ پھٹ جاتی ہے جس کی وجہ سے بینائی مستقل ضائع ہو جاتی ہے لیکن کیو پرم میں عمو ما وقتی اندھا پن ملتا ہے کیونکہ اس کا تعلق خون کی رگ پھٹنے یا خون کا لوتھڑا جمنے سے نہیں ہوتا صرف عارضی تشیخ سے ہوتا ہے۔اگر وضع حمل کے وقت عارضی اندھا پن پیدا ہو جائے اور کیو پرم کی دیگر علامتیں موجود ہوں تو کیوپرم سے بفضلہ تعالی ضرور فائدہ ہوگا اور کو ہم وضع حمل کے دوران بہت سہولت پیدا کر دے گی۔کیو پرم کی بعض ذہنی علامات بہت نمایاں ہیں۔اس کا مریض اپنے خیالات اور رجحانات میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا، غمگین رہتا ہے، زبان سے ایسے الفاظ ادا کرتا ہے جن کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ نہیں ہوتا۔سر میں خالی پن کا احساس ہوتا ہے، دماغ میں درد ہوتا ہے، سر پر سرخی مائل نیلا ہٹ اور سوزش پائی جاتی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا سر پر گرم پانی ڈالا جا رہا ہو۔بہت چکر آتے ہیں اور سر آگے کی طرف گرتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔پیشانی، کنپٹیوں اور گدی میں شدید درد ہوتا ہے جس میں دبانے سے اضافہ ہو جاتا ہے۔مریض کے چہرہ پر نیلگوں پیلاہٹ آ جاتی ہے اور وہ کسی گہری فکر اور سوچ میں ڈوبا رہتا ہے۔ہونٹوں پر نیلا ہٹ ہوتی ہے اور بے ہوشی طاری ہونے پر مریض کے جبڑے سختی سے بند ہو جاتے ہیں اور منہ سے جھاگ نکلتی ہے۔ناک میں خون کے شدید دباؤ کا احساس ہوتا ہے، قوت شامہ جاتی رہتی ہے۔منہ میں دھات کا مزہ محسوس ہوتا ہے اور بہت تھوک بہتا ہے۔زبان مفلوج ہو جاتی ہے اور لکنت کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔زبان سانپ کی زبان کی طرح باہرنکلتی اور سکڑتی ہے۔۔