ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 332

کروٹیلس 332 قسم کی الرجیاں پیدا ہو جاتی ہیں جس کے علاج کے لئے لیکیسس (Lachesis) جو سانپ کے زہر سے تیار کی جانے والی دوا ہے فائدہ مند ہوتی ہے۔یہ دوا ہر ایک مریض میں یکساں طور پر کام نہیں کرتی بلکہ بعض اور دواؤں کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔الیو مینا اور سباڈیلا کے علاوہ کر و ٹیلس بھی مفید ثابت ہوسکتی ہے لیکن لیکیس اس اثر میں بہت نمایاں ہے۔کر وٹیلس کا اثر جگر پر بہت نمایاں ہوتا ہے۔اگر یرقان کی علامتیں تیزی سے بڑھ رہی ہوں تو یہ دوا اللہ کے فضل سے بہت جلد اثر دکھاتی ہے۔اس کی ایک علامت یہ ہے کہ مریض حد سے زیادہ نروس (Nervous) ہو جاتا ہے اور اس کا جسم کانپتا ہے۔زبان بھی باہر نکالتے وقت کا پنپنے لگتی ہے۔معمولی حرکت سے تھکاوٹ ہو جاتی ہے، فالجی کمزوریاں نمایاں ہو جاتی ہیں، خون کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اور ہر اس جگہ سے نکلتا ہے جہاں بیرونی جلد اور اندرونی جھلیوں کے جوڑ آپس میں ملتے ہیں۔امراض اچانک بڑھ جاتی ہیں۔مثلاً فالج کا حملہ اچانک ہو جانا یا جسم کے کسی حصہ سے خون کا بہنے لگنا سانپ کے زہر کی یاد دلاتا ہے۔خون سیاہی مائل اور مائع صورت میں ہوتا ہے، جمتا نہیں ہے حالانکہ جسم کے اندر خون کی رگوں میں خون پھٹ کر دہی کی پھٹکیوں کی طرح ہو جاتا ہے۔پس جو خون باہر نکلتا ہے وہ میلا کچیلا خون ملا پانی ہوتا ہے۔دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بعض سانپوں کا زہر خون جماتا نہیں بلکہ پتلا کر دیتا ہے۔یہ زہر خون سے زیادہ اعصاب اور نروس سسٹم (Nervous System) پر حملہ آور ہوتا ہے۔کروٹیلس اس مریض میں مفید ہے جس کی ذہنی کیفیات عجیب وغریب ہو جاتی ہیں۔ہذیان بکنے اور بڑ بڑانے کا رجحان ہوتا ہے ، مزاج میں تیزی پائی جاتی ہے۔اگر اس سے کوئی بات شروع کریں تو وہ فوراً بات کاٹ دے گا، کسی کو بات نہیں کرنے دے گا اور سب باتیں خود سنائے گا۔برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کی موجودگی میں کوئی اور بات کرے۔وہ اپنی طرف سے فرضی بات بنا لے گا لیکن دوسرے کی بات ضرور کاٹے گا۔بہت زیادہ بولنے کی عادت لیکیس کے مریض میں بھی پائی جاتی ہے اور اس کی باتیں