ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxxv
دیباچه 23 اس نئے ایڈیشن کے متعلق کچھ ضروری باتیں جب انگلستان میں پہلی بار ہومیو پیتھی کلاس کا آغاز کیا گیا تو بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلم ٹیلی ویژن احمد یہ (MTA) کے ذریعہ جوں جوں اس ٹیلی ویژن کا دائرہ کار دنیا میں پھیلتا چلا جائے، دنیا بھر میں ہو میو پیتھی کی ترویج ہو سکے۔شروع میں اس کلاس کیلئے جو شاگر دسٹوڈیو میں اکٹھے کئے گئے ان میں چند ایک ایلو پیتھک ڈاکٹر اور ہومیوڈاکٹر بھی شامل تھے مگر یہ معدودے چند تھے۔بھاری اکثریت ایسے طلباء اور طالبات کی تھی جن کو ہو میو پیتھی تو در کنار دنیا کے کسی علم طب کی الف ب بھی نہیں آتی تھی اور اکثر کو سائنس کی بھی کوئی سدھ بدھ نہیں تھی۔میرے لئے یہ بہت بڑا چیلنج تھا کہ میں ہو میو پیتھی کو اس طریق پر پڑھاؤں کہ رفتہ رفتہ ہومیو پیتھک فلسفہ کے علاوہ ہومیو پیتھک دواؤں کے متفرق اثرات اور مریضوں اور مرضوں کی شناخت کے طریق وغیرہ سے ان سب کو اچھی طرح آگاہ کر سکوں۔اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے مجھے یہی ترکیب سجھائی دی کہ شروع سے لے کر آخر تک ہر دوا کے ذکر میں بار بار تفصیل کے ساتھ نہ صرف اس دوا کا ذکر کروں بلکہ ملتی جلتی تمام دواؤں کا ذکر بھی اسی باب کے تحت کر دوں۔اسی طرح مریضوں کی نوعیت کے متعلق بھی تفصیل سے روشنی ڈالوں اور مختلف امراض کے لئے بض نسخے چٹکلوں کے طور پر تجویز کروں جنہیں ہو میو پیتھی کا ایک ابتدائی طالبعلم اپنے روز مرہ کے استعمال میں لاکر ان سے استفادہ کر سکے۔اس کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہونا تھا کہ میرے طلباء کا ہومیو پیتھی پر یقین بڑھتا چلا جاتا۔اس طریق تعلیم کو اختیار کرتے ہوئے میں نے ہر دوا کے ذکر میں نہایت تفصیل کے ساتھ ملتی جلتی دواؤں کا بھی ذکر کیا۔ان امراض کی قسموں کا بھی بیان کیا جوان