ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxi of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxi

دیباچه Proving پر اعتماد نہیں کیا جاتا بلکہ مختلف وقتوں میں مختلف موسموں میں مختلف ملکوں میں کسی دوا کی Proving کرنے والے جب اپنے اپنے مشاہدہ کی رو سے اس کے اثرات بیان کرتے ہیں تو ان میں سے صرف متفقہ اثرات کو قبول کیا جاتا ہے اور یہ حقیقی معنوں میں Proving کہلاتی ہے۔ان مختلف Proving کرنے والوں کی ذہنی افتاد اور جسمانی ساخت کی مختلف تفاصیل بھی درج کی جاتی ہیں اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے الگ الگ اثرات کو بھی مرتب کر لیا جاتا ہے۔مثلاً ایک دوا ایک موٹے آدمی پر زیادہ اثر دکھاتی ہے اور سو کھے پر کم۔یا اس کے برعکس معاملہ ہوسکتا ہے۔ایسی صورت میں یہ لکھا جائے گا کہ یہ دوا اکثر موٹے آدمیوں پر اثر کرتی ہے اور شاذ کے طور پر پہلے آدمیوں پر بھی وغیرہ وغیرہ۔اپنے اس تجربہ کے دوران وہ ایک دوسرے سے کوئی مشورہ نہیں کرتے۔نہ ہی ان کو یہ علم ہوتا ہے کہ کس نباتاتی یا معدنی مادہ کا محلول بنا کر ان پر تجربہ کیا جارہا ہے نیز اس تجربہ کو مختلف موسموں میں بھی دہرایا جاتا ہے۔اس طریق پر اس تجرباتی محلول کے جو اثرات ذہن اور جسم پر پڑتے ہیں، تجربہ کرنے والا احتیاط سے ان کو مرتب کرتا ہے۔سب تجارب کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ اس دوا کے کیا اثرات ہیں۔ڈاکٹر ہانیمن نے ان تجارب کی روشنی میں سب سے زیادہ اہمیت ذہنی علامتوں کو دی ہے۔اگر کسی خاص ذہنی افتاد کے مریض پر کوئی دواز یادہ اثر کرتی ہے تو ویسی ہی ذہنی افتاد کے دوسرے شخص پر بھی ویسا ہی اثر دکھائے گی لیکن جسمانی ساخت کے ایک جیسے ہونے کے باوجود یہ دستور بسا اوقات صادق نہیں آتا۔دوا بنانے کا طریق ہومیو پیتھی میں دوا بنانے کے دو طریق ہیں۔سب سے پہلے دوا کے اصل جز وکو الکحل میں ملا کر کچھ عرصہ کے لئے رکھا جاتا ہے پھر اسے چھان لیا جاتا ہے۔اس پہلی حالت کو پوٹینسی نہیں کہتے۔یہ محلول