ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xix
دیباچه 7 تلاشی لی گئی۔بالآ خر جب وہ سب سے بالائی منزل کی چھت تک پہنچے تو دیکھا کہ وہاں ایک گھونسلے میں ایک کبوتری نے ایک انڈا دیا ہوا تھا۔یہ چھت بیمار عورت کے فلیٹ سے پندرہ ہیں منزل او پر تھی۔اس سے یہ حیران کن انکشاف ہوا کہ انسانی جسم اتنے دور دراز کے لطیف اثرات کو بھی جو ہواؤں میں گھل کر کالعدم ہو چکے ہوں گے محسوس کر لیتا ہے جب کہ کسی انتہائی جدید ز و حس برقی آلہ کے لئے بھی یہ ممکن نہ تھا کہ اس انڈے کے وجود کو محسوس کر سکے۔الرجی کے ضمن میں ہونے والی تحقیقات سے ایک اور بات بھی سامنے آئی ہے کہ الرجی کے بعض مریض موسم میں آئندہ ہونے والی تبدیلی کے اثرات بھی اتنے دن پہلے محسوس کر لیتے ہیں کہ جب ابھی انتہائی لطیف سائنسی آلات نے بھی انہیں محسوس نہ کیا ہو۔مثلاً بعض مریض ایسے ہیں جنہیں بجلی کے کڑکنے اور موسم میں اضطراب پیدا ہونے سے الرجی ہو جاتی ہے۔چنانچہ تحقیق سے جو حیرت انگیز بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ موسم کی ظاہری تبدیلیاں ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی تھیں اور ان کے کوئی آثار بھی کسی سائنسی آلہ کے ذریعہ منضبط نہیں ہو سکے تھے پھر بھی ایسے مریضوں میں اس الرجی کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے جس کا تعلق اس بگڑے ہوئے موسم سے تھا۔اللہ تعالیٰ نے پرندوں کو بھی یہ ملکہ عطا فرمایا ہے کہ وہ موسم کی تبدیلی سے پہلے ہی اسے محسوس کر لیتے ہیں اور شور مچانے لگتے ہیں۔روح ضرور ردعمل دکھاتی ہے۔ہو میو پیتھی میں جسم در حقیقت روح کے تابع رد عمل دکھاتا ہے نہ کہ از خود۔ہو میو پیتھی میں جو دوائی دی جاتی ہے وہ اتنی لطیف ہوتی ہے کہ اس میں کوئی بھی جسمانی مادہ باقی نہیں رہتا۔اس لئے ظاہر ہے کہ جسم اس کے خلاف کوئی رد عمل دکھا ہی نہیں سکتا۔صرف روح ہی جو ایک لطیف حقیقت ہے اور کوئی مادی وجود نہیں رکھتی اس لطافت کو محسوس کر سکتی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمد یہ نے بھی اس طرز کے علاج کے لئے روحانی علاج کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ وہ پیروں فقیروں والی