ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 122
پیٹیشیا 122 ٹائیفائیڈ کی صورت میں جب پیشیا کی علامتیں ہوں تو پیٹیشی لا زمی دوا بن جاتی ہے لیکن اس کی مددگار کے طور پر ٹائیفائیڈ بینم 200 اور پائیر وجینم 200 ملا کر اس کے اثر کو اور بھی تیز کر دیتی ہیں۔ٹائیفائیڈ میں پیٹ کا تناؤ بخار کی نسبت سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔سارا جسم گھل کر ختم ہورہا ہوتا ہے جبکہ پیٹ پھول کر بہت بڑا ہو جاتا ہے۔ایسی صورت میں بیٹیشیا کی علامات موجود ہوں تو اس کے ساتھ ٹائیفائیڈ یم اور پائیر وجینم حسب ذیل طریق پر استعمال کرانی چاہئے :- جب تک بخار ٹوٹ کر درجہ حرارت نارمل نہ ہو جائے یعنی نہ صبح بخار ہو نہ رات کو بخار ہو اس وقت تک ٹائیفائیڈ بینم اور پائیر وجینم دن میں تین دفعہ اور پیٹیشیا30، پانچ چھ دفعہ با قاعدگی سے دیں۔جب درجہ حرارت بالکل نارمل ہو چکا ہو تو پھر کم سے کم مزید ایک ہفتہ تک پائیر وجینم اور ٹائیفائیڈ مینم روزانہ ایک دفعہ اور پیشیا دن میں تین دفعہ۔تیسرے ہفتہ پائیر وجینم اور ٹائیفائیڈ ینم ہفتہ میں دو دفعہ اور بیٹیشیا حسب سابق دن میں تین دفعہ دیتے چلے جائیں۔اگر پورے اکیس دن یہ احتیاط برتی جائے تو اللہ کے فضل سے ٹائیفائیڈ کے اعادے کا کوئی احتمال نہیں رہے گا اور اس کے کوئی باقی ماندہ بداثرات بھی نہیں ہوں گے۔اگر پیٹیشیا کی علامتیں نہ ہوں اور مریض مائل بہ قبض ہو تو پیٹیشیا کی بجائے اسی طریق + پر کالی فاس اور فیرم فاس 6x میں ملا کر دیں اور ٹائیفائیڈ بینم اور پائیر وجینم والا نسخہ مذکورہ بالا ہدایت کے مطابق ساتھ دیتے رہے۔کسی ڈاکٹر نے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ ایک آدمی ٹائیفائیڈ بخار کے بعد نا بینا ہو گیا لیکن جب وہ کسی دوا کے نتیجہ میں دوبارہ بخار میں مبتلا ہو گیا تو اس کی بصارت واپس آ گئی۔ہومیو پیتھی میں ایسے محیر العقول واقعات شاذ کے طور پر ہی سہی مگر مشاہدہ میں ضرور آتے رہتے ہیں۔حالانکہ ایلو پیتھک ماہرین اعصاب کا دعوی ہے کہ اعصاب ایک دفعہ مردہ ہو جائیں تو ان کو از سر نو زندہ نہیں کیا جا سکتا۔بہر حال یہ بات مسلم ہے کہ ٹائیفائید بہت خطرناک بیماری ہے۔ٹائیفائیڈ کے بداثرات دماغ پر ظاہر ہوں تو پاگل کر دیتے ہیں اور ایسا پاگل پن عموماً عمر بھر کا روگ بن جاتا ہے۔ایسے مریض میں سٹرامونیم اور