ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 84
آرنیکا 84 دواؤں کو ایک دوسرے کے بعد دینا یا ملا کر ایک نسخہ کی صورت میں دینا ایک ایسافن ہے جو دواؤں کے مزاج کے گہرے مطالعہ اور تجربہ سے نصیب ہوتا ہے۔اسی خطرہ کے پیش نظر میں آرنیکا کو لیس سے ملا کر دیتا ہوں یا پھر دونوں میں سے صرف ایک دوا استعمال کراتا ہوں۔اگر دل کا حملہ خون جمنے کی وجہ سے ہوا ہو تو آرنیکا خون کو مناسب حد تک پتلا کرتی ہے۔حادثات اور چوٹوں کے لئے آرنیکا بہترین دوا ہے۔چوٹ کھائی ہوئی جگہ نیلی یا کالی ہو جائے اور خون جم گیا ہو تو آرنیکا بلا خوف و خطر استعمال کریں۔ایک دفعہ میرے پاس ایک ایسا مریض لایا گیا جس کا سارا جسم سر سے پاؤں تک لاٹھیوں کی ضربوں سے کالا اور نیلا ہورہا تھا۔حالت اتنی خطر ناک تھی کہ لگتا تھا کہ جلد مرجائے گا۔میں نے اسے آرنیکا کی بہت سی خوراکیں دے کر گھر بھجوا دیا۔دوسرے دن شام تک جب اس کی طرف سے کوئی اطلاع نہیں ملی تو تشویش لاحق ہوئی۔پتہ کروایا تو جواب ملا کہ وہ تو رات ہی کو بالکل ٹھیک ہو گیا تھا اور اب بھاگا دوڑا پھر رہا ہے۔الحمد للہ آرنیکا200 کواگرا یکونائٹ 200 سے ملا کر دیا جائے تو اکیلی آرنیکا کے مقابل پر یہ دونوں دوائیں مل کر زیادہ اچھا اور فوری اثر دکھاتی ہیں۔ماؤف حصہ پر سرخی زیادہ نمایاں ہو تو آرنیکا کے ساتھ بیلاڈونا ملا کر دینا زیادہ مفید ہے کیونکہ یہ سرخی بتاتی ہے کہ چوٹ والی جگہ کی طرف خون کا غیر معمولی رجحان ہے۔عموماً جس جگہ چوٹ لگے وہاں ابھار بن جاتا ہے جو چوٹ والے حصہ کو چھپالیتا ہے۔یہ ابھار دوران خون زیادہ ہونے کی وجہ پیدا ہوتا ہے جو جسم کے طبعی رد عمل کے طور پر صدمہ کی اطلاع ملتے ہی تیزی سے اس طرف دوڑتا ہے چونکہ آرنیکا میں متاثرہ حصہ کی طرف خون کا رجحان بڑھانے کا مزاج نہیں پایا جاتا اس لئے آرنیکا اکیلی کافی نہیں ہوتی۔اسے بیلا ڈونا کے ساتھ ملا کر دینا چاہئے۔ایکونائٹ بھی اس صورت حال میں عمومی طور پر مفید ہے۔اس لئے روزمرہ کے طور پر یه نسخه بلاتر درد استعمال کیا جائے تو کوئی نقصان نہیں۔ہاں بعض صورتوں میں زیادہ فائدہ کی