ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 56

ایمبرا گریسا 56 ایمبرا گریسا میں بیماریاں عموماً ایک طرف ہی ٹھہری رہتی ہیں۔یہ رجحان برائیونیا، بیلا ڈونا اور سپائی جیلیا میں بھی پایا جاتا ہے۔ایمبر اگر یسا میں دائیں اور بائیں کا فرق نہیں ہے۔اگر دائیں طرف ہی بیماری ہو تو دائیں طرف ہی رہے گی اور اگر بائیں طرف ہو تو بائیں طرف ہی رہے گی۔ایمبرا گریا کی ایک علامت جو بظاہر اپنا بھی معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مریض موسیقی کو برداشت نہیں کر سکتا اور اس کے سر درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اعصابی تناؤ اور جسمانی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔گویا موسیقی اس کو سکون بخشنے کی بجائے اس کے اعصاب میں اضطراب پیدا کر دیتی ہے۔ایمبرا گریسا میں بڑھاپے کی طبعی علامتیں مثلا ہاتھ پاؤں کا سونا، دل کا دھڑکنا اور اعصاب کا ڈھیلا پن سرعت سے بڑھنے لگتا ہے۔یہ دوا فوری صدمہ کی شدت کو کم کرنے میں بھی کام آتی ہے۔میں نے کئی بار ا سے ایسی مریض خواتین میں استعمال کیا ہے جو جذباتی صدمہ پہنچنے کے نتیجہ میں گہرے غم کا شکار ہوگئی تھیں۔عارضی طور پر غم کے صدمہ کے لئے اکیشیا سے بہتر کوئی اور دوا نہیں۔دافع اثر دوائیں : کیمفر کافیا۔نکس وامیکا۔پلسٹیلا۔سٹیفی سیگریا طاقت : 30 سے 200 تک