ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 845 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 845

انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 846 کچھ باقی رہ گیا ہو تو پلسٹیلا اس گند کو باہر نکالنے کے لئے مفید ہے۔حیض کے ایام بے قاعدہ ہوں ، سوزش پیدا کرنے والا لیکوریا ہو جس سے خارش بھی ہوتی ہو، حیض سے قبل طبیعت میں افسردگی اور غمگینی پیدا ہو، نیچے کی طرف بوجھ اور در دمحسوس ہوتی ہو جو صبح کے وقت زیادہ ہو اور پیشاب کے بعد جلن ہوتی ہو تو یہ علامتیں نیٹرم میور کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔جن عورتوں کو دائمی لیکوریا کی تکلیف ہوتی ہے ان کے بانجھ پن کے لئے نیٹرم کارب (Nat۔Carb) مفید ہے۔نیٹرم کا رب کی خاص علامت یہ ہے کہ مریضہ کا مزاج ٹھنڈا ہوتا ہے، داگی بانجھ پن کا شکار ہوتی ہے اور مسلسل جاری رہنے والا لیکور یا لاحق ہوتا ہے۔اگر یہ سب علامتیں کسی مریض میں اکٹھی ہو جائیں تو خدا کے فضل سے یہا کیلی دوا بانجھ پن کو دور کرنے میں بہت مؤثر ہے۔بانجھ پن کے لئے پلسٹیلا (Pulsatilla ) ، اشوکا (Ashoka)، اور گو پیم (Gossypium-Q) بھی بہترین دوائیں ہیں۔اس کے علاوہ موجودہ علامتوں کے مطابق بانجھ پن کا علاج کرنا چاہئے۔اگر رحم اپنی جگہ سے مل جائے اور اس وجہ سے حمل نہ ٹھہر رہا ہو تو نیٹرم فاس (Nat Phos) سے بھی فائدہ ہو سکتا ہے۔نیٹرم فاس کے مریض کے ہاتھ پاؤں سورا ئینم (Psorinum) کے مریض کی طرح بہت ٹھنڈے ہوتے ہیں (اگر چہ اس میں بعض علامتیں پلسٹیلا سے مشابہ ہوتی ہیں)۔حیض کے ایام میں خصوصاً دن کے وقت ہاتھ پاؤں ٹھنڈے رہتے ہیں۔حمل کے دوران عمومی ہدایات اور تسہیل ولادت کی دوائیں فیرم فاس، کلکیر یا فاس اور کالی فاس اگر حمل کے تیسرے، چوتھے مہینے سے 6x طاقت میں چند ٹکیاں فی خوراک صبح شام دی جاتی رہیں تو ماں اور بچے دونوں کے لئے بہترین ٹانک ہے۔مگر اس نسخہ کو ایک دو ہفتہ دے کر پھر ہفتہ دس دن کا ناغہ کرنا چاہئے۔مسلسل دیتے چلے جانا درست نہیں۔