ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 802
ور بیٹرم البم 802 رہنا چاہئے۔یہ پیٹ کو آہستہ آہستہ نرم کرے گی اور انتڑیوں کی خشکی کو دور کر دے گی۔تا ہم اس کے پوری طرح مؤثر ہونے سے پہلے قبض کے اس مریض کو یا تو انیا دینا پڑے گا یا گلیسرین کی ٹیوبز استعمال کرنی پڑیں گی کیونکہ فضلہ اتنا زیادہ سخت ہو چکا ہوتا ہے اور اتنی زیادہ مقدار میں اکٹھا ہو چکا ہوتا ہے کہ طبعی طریق پر اس کا اخراج ناممکن ہو جاتا ہے۔وریٹرم البم کا مریض مسلسل سردی محسوس کرنے کی وجہ سے سخت چڑ چڑا اور مائل بہ اشتعال ہو جاتا ہے۔اگر ایسے مریض کو ہر وقت گرم رکھا جائے تو اس کی طبیعت اعتدال پر آ جاتی ہے یعنی اشتعال اس کے مزاج کا کوئی مستقل حصہ نہیں ہوتا۔ور میٹرم البم کے بعض مریضوں میں مذہبی جنون بھی ملتا ہے۔ایسے مریض تیز تیز اور جلد جلد باتیں کرتے ہیں۔کبھی باتونی ہونے کا دورہ پڑ جاتا ہے اور کبھی خاموشی کا۔خاموشی کے دورے کے وقت مایوسی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ خود کشی کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے مگر ذہنی مریضوں کی ایسی علامتوں کا اور بھی بہت سی دواؤں میں ذکر موجود ہے۔یہاں اس ذکر کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب بھی ذہنی مریضوں کے علاج کا موقع آئے تو ور میرم بھی ایک امکانی دوا ہوسکتی ہے لیکن شاد کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔۔بعض بچیاں ہر حیض سے پہلے بغیر کسی وجہ کے بے حد اداس اور مایوس سی ہو جاتی ہیں۔مسکرانا بھول جاتی ہیں۔ان کو اگر ور میرم البم فائدہ دے تو مستقل شفا ہو جاتی ہے۔ورنہ ایسی بچیوں کے مستقل ذہنی مریضہ بن جانے کا احتمال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔طبیب کو ایسی بچیوں کے علاج میں یہ علامت یاد رکھنی چاہئے کہ جن کو وریٹرم البم کی ضرورت ہو ان کو لازماً سردی محسوس ہوتی ہے۔ور میٹرم البم میں بعض تضادات بھی پائے جاتے ہیں۔سر میں سردی محسوس نہیں ہوتی جبکہ باقی جسم ٹھنڈا ہوتا ہے لیکن بعض دفعہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے سر میں برف کوٹ کر بھر دی ہو۔گدی اور سر کی چوٹی پر یہ احساس بہت نمایاں ہوتا ہے جو سلفر