ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 736 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 736

سیکیل 736 ہی آرام آتا ہے۔سیکیل کے مریض کو گرمی کی بجائے ٹھنڈ سے فائدہ پہنچتا ہے۔موسم میں سخت ٹھنڈا بھی ہو تو گرمی محسوس کرتا ہے۔آرسنک سے سیکیل کا مقابلہ ہے اور بعض دفعہ ان دونوں میں امتیاز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔آپس میں بعض مشابہتوں کی وجہ سے یہ ایک دوسرے کے اثر کو زائل بھی کر دیتی ہیں۔اگر ایک دوا کی علامتیں موجود ہوں لیکن فائدہ نہ ہو تو دوسری دینی چاہئے۔یہ دونوں ایک دوسرے کے بعد کام آتی ہیں۔اکثر مریض جن میں سیکیل کی پر وونگ (proving) کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کا زیادہ اثر ان مریضوں پر ہوتا ہے جو لاغر، کمزور اور بے حد دبلے پتلے ہوں۔موٹے لوگ بہت کم سیکیل کے مریض ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے سیکیل کے مریضوں کا عموماً یہ نقشہ کھینچا جاتا ہے کہ دبلے پتلے، کمزور، جن کی جلد سکڑ کر ہڈیوں سے جڑی ہوئی ہو۔جلد کمزور اور خشک ہو کر سکڑ جاتی ہے اور جھریاں پڑنے لگتی ہیں۔جلد غیر صحت مند دکھائی دیتی ہے لیکن یہ لازمی نہیں ہے کہ سیکیل کا ہر مریض ایسا ہی ہو۔موٹے لوگوں پر بھی اس کا اثر ہو سکتا ہے۔سیکیل کی ایک زائد علامت یہ ہے کہ جلد پر جامنی سے رنگ کے داغ دھبے نمودار ہونے لگتے ہیں۔اگر یہ دھبے سرخ رنگ کے بھی ہوں تو ان میں نیلا ہٹ پائی جاتی ہے۔نیلا ہٹ کا پایا جانا سکیل کی خاص علامت ہے۔جسم کے کسی بھی عضو میں اگر دورانِ خون کمزور پڑ جائے۔مثلاً ٹانگوں اور پنڈلیوں میں یا ہاتھوں اور کلائیوں میں، جہاں جہاں جلد نیکی اور ہڈی کے قریب ہوگی وہاں اس قسم کے نشان اور دھبے ظاہر ہونے لگیں گے۔یہ سکیل کی خاص علامت ہے۔سیکیل کے زخموں میں ناسور بننے کا رجحان ہوتا ہے۔زخم رفتہ رفتہ خراب ہو کر گینگرین میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔مثلاً اگر انگلی کٹ جائے تو زخم ٹھیک ہونے کی بجائے آہستہ آہستہ اوپر کی طرف بڑھنے لگتا ہے جس سے سخت بد بو آتی ہے اور جس عضو پر ہو اس کے سارے بقیہ حصے کو گلا دیتا ہے۔اسی وجہ سے اسے جوڑ سے کاٹنا پڑتا ہے ورنہ بیماری جوڑ پار کر جاتی ہے اور بقیہ عضو بھی گینگرین کا شکار ہو جاتا ہے۔ہومیو پیتھی میں خدا کے فضل سے گینگرین کا علاج موجود ہے۔بارہا ایسے مریضوں کا میں نے خود کامیاب