ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 732
سینگونیریا 732 سینگونیر یا میں سانس کی نالی اور نرخرے میں کھانسی کے ساتھ درد بہت نمایاں ہوتا ہے۔بات کرتے ہی درد شروع ہو جاتا ہے۔کھانسی کے ساتھ ہوا کا گولا سا گلے میں پھنس جاتا ہے۔اسے نکالنے سے کچھ سکون ملتا ہے۔سینگونیر باتپ دق اور چھاتی کی بہت گہری بیماریوں میں کام آتی ہے مگر یہ صرف مریض کو پر سکون کرتی ہے مکمل شفا نہیں دیتی۔تپ دق میں سلفر، سلیشیا اور گریفائٹس گومکمل شفا بخشنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگرتپ دق کا علاج عموماً نسبتا نرم دواؤں سے کرنا چاہئے جن میں سینگونیر یا بھی ہے۔اکثر تمیں طاقت میں استعمال ہوتی ہے اور زیادہ اونچی طاقت میں دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔اگر کسی کو گلاب کے پھول کی خوشبو سے الرجی ہو تو سینگو نیر یا اس کا تریاق ثابت ہوتی ہے۔سینگونیر یا میں بعض دفعہ سات سات دن کے سر درد کا دورہ پڑتا ہے۔اگر سینگونیر یا میں دوسری علامتیں ملتی ہوں تو بائیں طرف کے درد میں بھی مفید ثابت ہو سکتی ہے۔اگر کندھے کا جوڑ جم جائے اور گردن کا دایاں حصہ اور کمر کا پچھلا حصہ بھی متاثر ہو اور سب عضلات اکٹر جائیں تو سینگونیر یا بہت مؤثر ثابت ہوتی ہے۔سینگونیر یا بیرونی صدمہ کی وجہ سے پہنچنے والی چوٹ کے لئے مفید نہیں بلکہ یہ اندرونی تکلیفوں کی دوا ہے۔سینگونیریا کے مریض کے چہرے پر مستقل سرخی آ جاتی ہے۔کھانے پینے میں بداحتیاطی اور مرغن غذاؤں سے سر درد ہونے لگتا ہے۔معدے میں جلن ہوتی ہے۔سب اخراجات میں تیزابیت پائی جاتی ہے۔ابکائیاں بھی آتی ہیں۔تے میں اتنی تیزابیت ہوتی ہے کہ گلا چھل جاتا ہے۔اگر معدے میں حد سے بڑھے ہوئے تیزابی مادے موجود ہوں تو سینگونیر یا بھی، بشرطیکہ دیگر علامتیں پائی جائیں بہت فائدہ مند ثابت ہوگی۔مرض بڑھنے کے ساتھ بھوک بھی بڑھتی ہے مگر کچھ عرصے کے بعد جب معدہ جواب دے جائے اور قے شروع ہو جائے تو بھوک تو رہتی ہے مگر کھانے کو دل بالکل نہیں چاہتا۔