ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 729 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 729

سبائنا 729 اگر حیض کے بعد لیکوریا بہت بڑھ جائے جو چھیلنے والا اور سخت بد بودار ہو نیز جنسی خواہشات بہت بڑھ جائیں تو سبائنا استعمال کرنی چاہئے۔سبائنا میں مسوں کی علامت بھی پائی جاتی ہے جن میں خون بہنے کا رجحان ہوتا ہے۔یہ مسے کافی خطرناک بھی ہو سکتے ہیں اور ان کا زیادہ تعلق رانوں اور پیٹھ کے درمیان والے حصہ سے ہوتا ہے۔سبائنا میں خون بہنے کا رجحان تو بہت ہے مگر ایک دم بہت شدت اور جوش سے نہیں ابلتا۔ملی فولیم میں جہاں خون ہے، اچانک بہت زور سے نکلنے لگتا ہے جیسے مشک کا منہ کھول دیا گیا ہو۔یہ خاص فرق یا درکھنا چاہئے۔سبائنا گنٹھیا میں بھی مفید دوا ہے اور اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ سبائنا کے خون بہنے کا رجحان صرف گنٹھیا کی موجودگی میں رک جاتا ہے۔اگر گنٹھیا ٹھیک ہو جائے تو خون بہنے لگے گا اور اگر خون بہنار کے تو گنٹھیا کی تکلیف ہو جائے گی۔گاؤٹ یعنی گنٹھیا کی تکلیف گرم کمرے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔جوڑ سوزش سے سرخ اور چمکدار ہو جاتے ہیں۔سینے میں جلن ہوتی ہے اور منہ کا مزہ کڑوا ہو جاتا ہے۔پیٹ میں درد ہوتا ہے۔سر میں اچانک درد شروع ہو جاتا ہے جو آہستہ آہستہ ٹھیک ہوتا ہے۔چہرہ اور سر پر خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔چباتے ہوئے دانتوں میں درد ہوتا ہے۔ہر وقت پیٹ بھرے ہونے کا احساس رہتا ہے۔سبائنا میں صرف قبض بھی پائی جاتی ہے۔مدد گار دوا تھوجا دافع اثر دوا: طاقت: 30 پلسٹیلا