ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 725 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 725

سباڈیلا 725 تو ہمات کی مدد سے دواؤں کی پہچان آسان ہو جاتی ہے اور بعض پیچیدہ بیماریوں کی شناخت میں مددملتی ہے۔بعض مریضوں کو عجیب و غریب وہم ہوتے ہیں۔مثلاً تھو جا کے مریض کو یہ وہم ہوتا ہے کہ میں شیشے کا بنا ہوا ہوں اور جھنجھنا کر ٹوٹ جاؤں گا۔ایک مریض بہت محتاط ہو کر چلتا تھا کہ کہیں ٹھوکر نہ لگ جائے اور ٹوٹ نہ جاؤں۔اسے ایک ماہر نفسیات کے پاس لے جایا گیا۔اس نے سوچا کہ اس کا ایک ہی علاج ہے کہ میں اسے زور سے تھپڑ ماروں، جب ٹوٹے گا نہیں تو خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔اس نے اچانک زور سے تھپڑ مارا تو وہ مریض چھن چھن کر وہیں گر کر مر گیا۔بظاہر تو یہ قصہ لگتا ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے کہ سچ ہے کہ نہیں مگر بعض معتبر لوگوں نے بیان کیا ہے۔اگر سچ ہے تو یہ تھو جا کا مثالی مریض ہے۔Hay Fever میں ناک کے اندر کھجلی ہوتی ہے جو پیٹ کے کیڑوں کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے۔اگر پیٹ میں کیڑے ہوں تو ناک کے اوپر یا اندر کھلی ہونا ایک طبعی امر ہے جس کی وجہ سے چھینکوں کا عارضہ لگ سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سباڈیلا پیٹ کے کیڑوں کا بھی بہت اچھا علاج ہے۔اگر چہ بورک (Dr۔Boericke) نے سباڈیلا باب میں تو اس کا ذکر نہیں کیا مگر ر بیپرٹری میں سباڈیلا کو کیڑوں کی اہم دوا ظاہر کیا ہے۔سباڈیلا کی کھجلی عموماً تالو میں ہوتی ہے۔ایک اور دوا Wyethia تالو میں کھجلی کی بجائے سخت درد پیدا کرتی ہے۔اگر یہ درد جگہ بدلے یعنی تالو پر بظاہر ٹھیک ہو جائے لیکن گلے کے پچھلے حصہ پر شدید حملہ کرے اور اس کی وجہ سے درد کے علاوہ بار بار کھانسی اٹھے اور بے چینی ہو تو نکس وامی کا مفید ہے۔سباڈیلا نزلاتی کیفیت میں آرسنک سے مشابہ ہے لیکن آرسنک میں جلن زیادہ ہوتی ہے۔بعض ایسی دوائیں ہیں جن میں بیماری کے دوران بہت بھوک لگتی ہے۔سباڈیلا میں بھی چھینکوں کے حملے کے دوران بھوک بہت بڑھ جاتی ہے۔یہ دوا پیٹ کے کیٹروں کی دشمن ہے۔اگر ناک کے باہر یا ہونٹوں کے اردگرد اور تالو میں مستقل کھجلی کی علامتیں پائی جائیں تو ایسے مریض کے پیٹ میں عموماً کیڑے ہوتے