ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 724
سباڈیلا 724 جب سباڈیلا کی علامتیں ہوں تو سباڈیلا ہی دیں۔جب مریض ٹھیک ہو جائے تو اس بات کا انتظار نہ کریں کہ بیماری مریض پر دوبارہ حملہ آور ہو۔بیماری کے مستقل علاج کے لئے 1000 طاقت میں پندرہ دن کے وقفہ سے لیکیس دیں تو مکمل شفا ہوسکتی ہے۔لیکن اگر سباڈیلا اور دیگر وقتی دوائیں فائدہ نہ دیں تو پھر بھی فوری ضرورت کے لئے لیکلیس استعمال کی جاسکتی ہے۔بعض مریضوں میں یہ فوری اثر بھی دکھاتی ہے۔اس لئے اسے مزمن دوا کے طور پر ہی نہیں ، حاد دوا کے طور پر بھی استعمال کروایا جاتا ہے۔بعض دفعہ ایک خوراک دینے سے ہی چھینکیں بند ہو جاتی ہیں۔چھینکوں کی بیماریاں مختلف شکلوں میں ڈھلتی رہتی ہیں۔اس لئے ان کا علاج بہت توجہ سے ہونا چاہئے۔مذکورہ بالا سب دوائیں عموماً مفید ثابت ہوتی ہیں اور مایوس نہیں کرتیں۔خود سباڈیلا میں بھی بعض مزمن بیماریوں کو دور کرنے کی صلاحیت ملتی ہے۔اگر نزلہ پرانا ہو جائے اور ناک کی نالیوں میں بیٹھ رہے تو ایسے نزلہ کے علاج کے لئے بعض دفعہ سباڈیلا دینی پڑے گی۔سباڈیلا کی ایک عجیب علامت یہ ہے کہ اس کے بعض مریضوں کو یہ وہم ہونے لگتا ہے کہ ان کا کوئی عضو دوسرے اعضاء سے بڑا ہو گیا ہے۔کئی دفعہ میرے پاس ایسے مریض آئے ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کا چہرہ ایک طرف سے سوج کر بڑا ہو گیا ہے لیکن دیکھنے میں ایسا نہیں لگتا۔یہ سباڈیلا کی خاص علامت ہے۔اس علامت کی وجہ سے سباڈیلا دیں تو دوسری تکلیفیں بھی ساتھ ہی دور ہو جاتی ہیں۔ایک عورت کا کیس مجھے یاد ہے جسے ہسپتال والوں نے لا علاج قرار دے دیا تھا اور اس کی یہ علامت سب سے نمایاں تھی کہ وہ کہتی تھی کہ میری ایک گال سوجی ہوئی ہے۔اس کو سبا ڈیلا دی گئی تو اللہ کے فضل سے سب علامتیں ٹھیک ہو گئیں۔اگر دماغ میں کوئی غیر معمولی خیال بیٹھ جائے تو اس سے دوا تلاش کرنے میں بہت مدد ملتی ہے۔سباڈیلا کا مریض اس وہم میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے کہ اس کی پسلیاں یا ٹانگیں ٹیڑھی ہو گئی ہیں یا بعض اعضاء سوکھ رہے ہیں اور یہ و ہم اتنا پختہ ہو جاتا ہے کہ اس کے دماغ سے نکلتا ہی نہیں۔