ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 32
ایگیریکس 32 کمزوری واقع ہو جائے اور پیٹ غیر معمولی طور پر ہوا سے بھر جائے تو ایگیر میکس مفید ہے۔نکس وامیکا بھی انتڑیوں کی حرکت کو بحال کرنے کے لئے بہت زوداثر ہے اور اس کے لئے بہت زیادہ علامتیں ڈھونڈنے کی بھی ضرورت پیش نہیں آتی۔پیٹ کی عارضی اور مستقل دونوں بیماریوں میں نکس وامیکا اچھا اثر دکھاتی ہے۔نہ سلفر کی طرح بہت گہری اور نہ ایکونائٹ کی طرح عارضی بلکہ درمیانی کیفیت کی دوا ہے۔ایگیر سیکس کا مریض عموماً گم سم ہوتا ہے اور اس کی خاص علامت یہ ہے کہ چہرے کے اعصاب اور عضلات پھڑکتے ہیں۔یہی علامت انتڑیوں میں بھی پائی جاتی ہے۔اگر انتڑیوں میں بار بار پھڑکن کا احساس ہولیکن نیچے کی طرف حرکت نہ ہو تو ایگیر میکس دوا ہو گی۔ایگیر یکس میں وہمی نظارے بھی ملتے ہیں۔عورتوں کے رحم میں زہر یلے مادے پیدا ہونے لگیں تو ان کے نتیجہ میں بالعموم وہمی نظارے دکھائی دینے لگتے ہیں۔بچہ پیدا ہونے کے بعد رحم کی پوری طرح صفائی نہ ہو تو اس سے بھی ذہن پر برا اثر پڑتا ہے۔ایسی فیکشن صورت میں پلسٹیلا رحم کی صفائی کے لئے اچھی عمومی دوا ثابت ہوتی ہے۔رحم میں ہو جائے اور بخار ہو تو سلفر اور پائیر و جینم 200 طاقت میں ملا کر استعمال کرنی چاہئیں۔اگر ایسی مریضہ کو وہمی نظارے نظر آنے لگیں اور اس کا دودھ بھی خشک ہو جائے تو ابگیر سیکس کام آئے گی۔انفیکشن میں سلفر اور پائیر وجینم کے ساتھ سلیشیا، کالی میور ، فیرم فاس اور کالی فاس سب کو 6x کی طاقت میں ملا کر دینا اچھا نسخہ ہے۔ایگیر یکس میں ایگزیما بھی ملتا ہے۔اس ایگزیما کی پہچان زرد رنگ کے مواد والے چھالے ہیں جو اعصابی ریشوں کے ساتھ ساتھ جلد پر نکلتے ہیں۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ اعصابی کمزوریاں ایگزیما میں بدل جاتی ہیں۔بعض اور بیماریوں میں بھی اعصاب کی رگوں کے ساتھ ساتھ چھالے نکلتے ہیں جوعموماً ہر پیز (Herpes) کی پہچان ہے جس کی مختلف اقسام ہوتی ہیں لیکن ایگیر یکس ہر چیز کی دوا نہیں ہے اور اس کے ایگزیما اور چھالوں کا تعلق ہر چیز سے نہیں ہے۔