ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 629
نیٹرم فاس 629 ہے ورنہ ایسا مریض پاگل بھی ہو سکتا ہے یا پھر اسے ہسٹیریا کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔سر میں خارش ہوتی ہے اور زرد رنگ کے دانے بن جاتے ہیں۔ماتھے کے ایگزیما میں بھی مفید ہے۔سر بھاری ہوا اور بال جھڑتے ہوں تو نیٹرم فاس اچھی دوا ہے۔عموماً گنجے پن میں کوئی دوا کافی نہیں سمجھی جاتی لیکن کسی کمزوری کی وجہ سے بال جھڑنے لگیں تو اگر وہ کمزوری دور کر دی جائے تو گنجا پن خود بخود ٹھیک ہونے لگے گا۔خصوصاً اگر ایلو پیشیا (Alopecia) ہو تو اس میں ہومیو پیتھی کا نسخه غیر معمولی کامیاب ہے اور حیرت انگیز طور پر کام کرتا ہے۔اس بیماری میں سارے سر کے بال کچھوں کی صورت میں اترنے لگتے ہیں جو صیح دوا دینے سے دیکھتے ہی دیکھتے دوبارہ اگنے لگتے ہیں۔نیٹرم فاس میں سر درد دماغی محنت سے بڑھتا ہے۔آنکھوں ، گدی اور کنپٹیوں میں درد ہوتا ہے۔سوئیاں سی چھتی ہیں اور جلن کا احساس بھی رہتا ہے۔آنکھوں کے لئے بھی نیٹرم فاس بہت مفید دوا ہے۔اگر پڑھتے ہوئے دائیں آنکھ میں پھڑکن ہو تو نیٹرم فاس خاص طور پر مفید ہے۔اگر دیگر علامتیں ملیں تو بھینگے پن میں بھی شافی ثابت ہوتی ہے۔دن میں تھکاوٹ کی وجہ سے آنکھوں کے سامنے تارے ناچنے لگیں تو اس میں رسٹاکس اولیت رکھتی ہے مگر نیٹرم مگر فاس بھی مفید ہوسکتی ہے۔نیٹرم فاس میں آنکھوں سے پیلے رنگ کی رطوبت نکلتی ہیں اور آنکھیں زردی ہو جاتی ہیں۔آنکھوں کے سامنے دھند آتی ہے۔پوٹوں میں خارش اور جلن ہوتی ہے۔دور کی نظر کمزور ہوتی ہے۔کانوں میں ہر طرح کی آوازیں آتی ہیں۔قوت شنوائی میں تیزی آجاتی ہے یا کمی واقع ہو جاتی ہے۔کان میں درد ہوتا ہے۔کانوں کے پیچھے سوئیاں سی چھتی ہیں۔صرف ایک کان سرخ اور گرم ہو جاتا ہے اور اس میں خارش ہوتی ہے۔نیٹرم فاس کا مریض عموماً نزلہ زکام کا شکار رہتا ہے۔ناک میں گاڑھی رطوبت جم جاتی ہے۔چھینکوں کا رجحان ہوتا ہے۔قوت شامہ زیادہ تیز ہوتی ہے۔بائیں طرف کے نتھنے میں سرسراہٹ ہوتی ہے جس کی وجہ سے چھینکیں آتی ہیں اور آنکھوں سے پانی بہنے لگتا ہے۔گلے میں زرد رنگ کی بلغم گرتی ہو تو نیٹرم فاس دوا ہو سکتی ہے۔نیٹرم فاس میں