ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 560
لیڈم 560 پر پاؤں رکھ دے اور اس کے سم میں گہرا زخم بن جائے جو ہڈی کے کنارے تک جا پہنچے تو اس کا شیخ اور ٹینس لیڈم 200 دینے سے آنا فانا ٹھیک ہوسکتا ہے۔لیڈم میں تشنج روکنے کا رجحان عموماً ایسے شیخ میں ملتا ہے جو نو کیلی چیزیں چھنے کے نتیجہ میں پیدا ہو خواہ وہ سالوں بعد ہی کیوں نہ ہو۔ہڈیوں کے گرد کوئی نوکدار چیز لگنے سے اگر ہڈیوں کا انیمل زخمی ہو جائے تو اس میں لیڈم بہت مفید ہے۔اس تکلیف میں ہائی پیر کم ہڈی کے گرد لپٹی ہوئی نسوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں کام آتی ہے۔اسی طرح اگر جراحی کے وقت نشتر سے اعصاب کٹ جائیں اور زخم بظاہر مندل بھی ہو جائے لیکن درد باقی رہے تو اس کے خلاف بھی ہائی پیر یکم مفید ہے جبکہ لیڈم نشتر کے زخموں کے لئے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے۔ایڑی میں موچ آ جائے تو آرنیکا اونچی طاقت میں دینا مفید ہوتا ہے۔اعصابی رگوں میں بداثرات باقی رہ جائیں تو انہیں دور کرنے میں آرنیکا کام نہیں کرتی۔ان میں روٹا اور بیلس زیادہ اچھا اثر دکھاتی ہیں۔بار بارموچ آنے کی وجہ سے ٹخنہ متورم ہو جائے اور مسلسل اس میں تکلیف رہے تو ایکوی زیٹم (Equisetum) بہت مفید ہے۔لیڈم بھی ٹخنے کی اس تکلیف میں بہت کارآمد ثابت ہوتی ہے لیکن اس کی سوزش کا عموماً جوڑوں کے درد سے زیادہ تعلق ہے۔ٹخنوں کی چوٹوں کے بداثرات کے لئے روٹا پیلس اورا یکوی زیم مفید دوائیں ہیں۔بعض ادویات کا ذکر کتب میں نہیں ملتا لیکن تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مفید ہیں۔اسے Clinical Evidence کہا جاتا ہے یعنی بارہا تجربہ کے نتیجہ میں کسی دوا کی افادیت ثابت ہو۔ہومیو پیتھی کے فروغ میں پر وونگ کے علاوہ Clinical Evidence نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک زمانے میں زیادہ تر (Proving) یعنی طریقہ آزمائش کے ذریعہ دواؤں کا حال معلوم کیا جاتا تھا۔یہی بہترین طریق ہے لیکن اب اس طریقہ آزمائش کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے والے لوگ بہت کم ملتے ہیں جو خالی الذہن ہو کر اور ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہو کر اپنے اوپر پر دونگ کروائیں اور حصول علم کی خاطر پیدا ہونے والی عارضی تکالیف بخوشی برداشت کریں۔