ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 470
آیوڈم 470 گھاٹ اتار دے۔پھر وہ اس ارادے سے سخت خوفزدہ بھی ہو جاتی ہے لیکن اسے رد نہیں کر سکتی اور یہ خیال سایہ کی طرح اس کے پیچھے لگا رہتا ہے۔اگر مریضہ بہت خوفزدہ بھی ہو تو یہی علامتیں پاگل پن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔اگر مریض کی دیگر علامتیں آیوڈین کا تقاضا کرتی ہوں تو یہ دوا بہت مفید ثابت ہوگی۔کالی آیوڈائیڈ میں بھی آیوڈین کی کچھ علامتیں پائی جاتی ہیں۔اس کا مریض بہت چلتا ہے اور چلنے سے تھکتا نہیں۔اگر کسی دن نہ چلے تو اعصاب میں تکلیف محسوس کرتا ہے۔اس کے مزاج میں بھی گرمی پائی جاتی ہے۔البتہ ایک فرق ہے کہ اس کے جسم میں گہرے زخم بن جاتے ہیں جو ناسور بننے کا رجحان رکھتے ہیں جبکہ آیوڈین میں غدودوں کے اندر کی سوزش اور ان کے سخت ہونے کی علامت پائی جاتی ہے۔تپ دق کا رجحان بھی ملتا ہے۔آیوڈین کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ سارے جسم کے غدود پھولنے لگتے ہیں اور سخت ہو جاتے ہیں لیکن عورتوں کی چھاتیوں کے غدود سکڑنے لگتے ہیں اور بالکل جھلی سی باقی رہ جاتی ہے۔یہ اس کی ایک استثنائی علامت ہے ورنہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ سارا جسم سوکھ رہا ہوتا ہے اور غدود بڑھ رہے ہوتے ہیں۔اگر کسی کا جسم سوکھ رہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ غدود بڑھ رہے ہوں تو ایسے مریض کو آیوڈم کی ضرورت ہوتی ہے۔اس میں غدود اور جسم بیک وقت موٹے نہیں ہوتے۔عموماً پیٹ کے غدود بہت زیادہ پھول جاتے ہیں اور ان میں گانٹھیں نمودار ہو جاتی ہیں۔بغلوں کے نیچے بھی غدود بڑے اور سخت ہو جاتے ہیں۔چونکہ آیوڈم گرم مزاج کی دوا ہے اس لئے اس کی کھانسی بھی گرمی سے بڑھتی ہے چنا نچہ گرم کمرے میں جانے سے کھانسی کا دورہ پڑ جاتا ہے مگر آیوڈم کی پہچان کے لئے صرف یہی علامت کافی نہیں۔باقی علامتیں بھی موجود ہونا ضروری ہیں۔اس دوا میں جگر ، تلی اور گلے کی سوزش بھی ملتی ہے۔عموماً ایسی سوزش اور غدودوں کی تکلیف کے نتیجہ میں مریض کو دست لگ جاتے ہیں۔آیوڈم میں ہر جگہ دھڑکن پائی جاتی ہے۔یہ علامت