ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 469

آیوڈم 469 119 آیوڈم IODUM آیوڈم بہت گرم مزاج دوا ہے۔اس کا مریض بہت شدت سے گرمی محسوس کرتا ہے۔اسے بے حد بھوک لگتی ہے لیکن بہت کھانے کے باوجود اس کا جسم دبلا پتلا رہتا ہے۔بہت تیز طرار ہوتا ہے، نچلا نہیں بیٹھ سکتا، ادھر ادھر گھومتا رہتا ہے۔جسم میں ہر جگہ غدود بڑھ جاتے ہیں اور بہت سخت ہو جاتے ہیں۔یہ ختی کو نیم سے مشابہ ہوتی ہے۔آیوڈین کا مریض سوکھے پن کے لحاظ سے ابراٹینم اور نیٹرم میور کی یاد دلاتا ہے لیکن یہ دونوں دوائیں ٹھنڈے مزاج کی ہیں۔۔آیوڈم کے مریض کی بے چینی کا تعلق اعصابی گھبراہٹ سے ہوتا ہے۔یہ گھبراہٹ آرسنک کی طرح کی نہیں ہوتی بلکہ اعصاب میں ضرورت سے زیادہ توانائی پائی جانے کی وجہ سے ہوتی ہے۔چونکہ خوب کھاتا پیتا ہے اور چربی نہیں بنتی اس لئے جسم میں پیدا ہونے والی زائد توانائی اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔چنانچہ یہ مسلسل حرکت کرتا رہتا ہے اور بھاگ دوڑ کر اپنی طاقت خرچ کرتا ہے۔اگر ایسے مریض کو زبر دستی بٹھانے کی کوشش کی جائے تو اس میں شدید غصے کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔وہ مار دھاڑ اور قتل تک کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اگر ایسے مریض کا بچپن میں آیوڈین سے علاج نہ کیا جائے تو بڑا ہو کر نہایت خطر ناک مجرم بھی بن سکتا ہے اور بغیر کسی محرک کے قتل و غارت میں ملوث ہوسکتا ہے۔گو نیٹرم میور اور ہپر سلف میں بھی تشد داور بلا وجہ قتل کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے لیکن ان کی دیگر علامتوں میں بہت فرق ہے۔لیکس وامیکا میں بھی یہ خطرناک علامت پائی جاتی ہے کہ اس کی مریضہ کے دل میں بے اختیار یہ خواہش ابھرنے لگتی ہے کہ اپنے بچے کو آگ میں جھونک دے یا بے حد محبت ہونے کے باوجود خاوند کو موت کے