ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 465
اگنیشیا 465 سر درد میں یوں لگتا ہے جیسے کسی نے میخ ٹھونک دی ہے جس طرف درد ہوا سے تکیہ میں زور سے دبانے سے کچھ آرام ملتا ہے۔اگنیشیا میں قے بھی آتی ہے لیکن اس کا تعلق متلی سے نہیں ہوتا۔کا کواس کی طرح اچانک تے بھی آجاتی ہے اور متلی بالکل محسوس نہیں ہوتا۔اگلیڈیا میں یہ تعجب انگیز بات ہے کہ اگر متلی ہو تو سخت اور نا قابل ہضم چیزیں کھانے سے آرام آئے گا۔نرم اور ہلکی غذا لینے سے تکلیف بڑھ جائے گی۔اگر گلے میں خراش کی وجہ سے کھانسی آئے تو کھانسی تکلیف کو کم کرنے کی بجائے بڑھا دیتی ہے اور ایک دفعہ چھڑ جائے تو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔اگر کھانسی کے عین درمیان اگنیشیا کی ایک خوراک دے دیں تو کھانسی فورا بند ہو جائے گی۔یہاں اس کا اثر حیرت انگیز ہے۔میرے تجربہ میں ہے کہ جب اگنیشیا فائدہ دے تو فوری اثر دکھاتی ہے۔اگنیشیا کے مریض کو بعض دفعہ سانس کی نالی میں شیخ ہو جاتا ہے اور خرخراہٹ کی آواز آتی ہے۔اس تشنج میں بھی اگنیشیا حیران کن اثر دکھاتی ہے۔چند گولیاں منہ میں ڈالتے ہی فوری طور پر شیخ دور ہو جائے گا۔پس اگنیشیا ہر معاملے میں تعجب کا پہلو رکھتی ہے۔اثر میں بھی تعجب ہے اور بیماریوں کی عادات میں بھی تعجب پایا جاتا ہے۔اگنیشیا کی مریضہ اکثر نا امید اور مایوس رہتی ہے۔کسی سے ملنا جلنا پسند نہیں کرتی۔یادداشت کمزور ہو جاتی ہے اور ہسٹیریا ہو جاتا ہے اور اس وہم کا شکار رہتی ہے کہ کچھ ہو جائے گا۔عزیزوں کے مرنے کا خوف لاحق رہتا ہے۔بعض دفعہ نظارے دیکھتی ہے۔اگر ایسی مریضہ کو وقت پر اگنیشیا نہ دی جائے تو یہ کیفیت بڑھ کر پاگل پن میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔اگر ایک دفعہ مریضہ پاگل ہو جائے تو پھر اگنیشیا کام نہیں آئے گی۔اس کی بجائے نیٹرم میور بہت بہتر کام کرتی ہے۔اگنیشیا میں بعض اور دواؤں کی طرح مریضہ اس وہم میں بھی مبتلا ہو جاتی ہے کہ وہ سخت گناہ گار ہے اور اس کی بخشش کی کوئی صورت نہیں رہی۔پلسٹیلا ، ہیلی بورس، آرم، ہائی کمس، لیکیس اور بعض دوسری دواؤں میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے۔ور