ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 458 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 458

ہائیو سمس دیکھئے کیا تھرس) 458 ہائیو مس کے مریض میں سوتے ہوئے یا بے ہوشی کے دوران ہذیان بکنے کی علامت پائی جاتی ہے جو ہوش آنے پر باقی نہیں رہتی۔ہائیو مس کے مریض کے سب عضلات پھڑکتے ہیں، اعصاب میں جیسے شعلہ سا لپکتا ہے اور شیعی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، ایسی چھن جیسے سوئی سے نانگا بھرا ہو۔اعصاب میں تشیخ اور پیدا ہو جاتا ہے اور جھٹکے لگتے ہیں۔بعض جگہ کے اعصاب پھڑکنے لگ جاتے ہیں، کمزوری بہت ہوتی ہے اور مریض کا سر کمزوری کی وجہ سے کھسک کر تکیے سے نیچے آ جاتا ہے۔یہ علامت اکڑاؤ میوریٹک ایسڈ (Muriatic Acid) کے مریض میں بھی پائی جاتی ہے۔ہائیو کس میں عورتوں میں وضع حمل کے وقت نہایت خطرناک قسم کا تشنج شروع ہو جاتا ہے۔ہائیوکس میں ہر قسم کی دماغی بیماریاں پائی جاتی ہیں لیکن ان میں مارکٹائی کا رجحان کم ہوتا ہے۔بیلا ڈونا کے پاگل پن میں یہ رجحان بہت زیادہ ملتا ہے۔ہائی نس میں مریض زیادہ تر وہم کا شکار ہوتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس کے پاس کھڑا ہے۔پس وہ اس خیالی وجود سے باتیں کرنے لگتا ہے یا اسے یہ وہم ہو جاتا ہے کہ کوئی اس کے پیچھے کھڑا ہے جسے وہ مڑ مڑ کر دیکھے گا۔سخت شکی مزاج ہو جاتا ہے جو یکیس کی بھی علامت ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ اس کے قریبی عزیزوں نے دوا میں زہر ملا دیا ہے۔ہا ئیو سکس میں بھی یہ علامات نمایاں ہے۔اگر کوئی مریض اس خوف سے دوا استعمال نہ کرے کہ اس میں کچھ ملا نہ دیا گیا ہوتو اسے یہ دوا زیادہ پانی میں ایک آدھ قطرہ ملا کر دینی چاہئے۔ہائیو مکس میں مریض نیم بے ہوشی کے عالم میں اپنے آپ سے بھی باتیں کرتا ہے پھر بہت چھینیں مارتا ہے اور بے ہوش ہو جاتا ہے۔اپنے آپ سے باتیں کرنے کی عادت تو بعض اچھے بھلے لوگوں میں بھی ہوتی ہے مگر ہائی کس کے مریض میں اپنے آپ سے باتیں کرنے کا رجحان صرف بیماری کے دوران ملتا ہے۔