ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 11

ایکونائٹ 11 بالمثل صحیح دوا کے استعمال کے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتی۔بعض دفعہ انفلوئنزا کے آغاز میں یہ نسخہ نا کام ہو جاتا ہے سوائے اس کے کہ بالکل شروع میں دیا جائے۔اگر ذرا دیر ہو جائے تو پھر انفلوئنزا کی دوسری بالمثل دوائیں دینی پڑیں گی۔عرصے کے لحاظ سے بیماریاں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک حاد (Acute) یعنی آناً فاناً شدت سے حملہ آور ہونے والی جو ٹھیک بھی جلد ہو جاتی ہیں۔دوسری مزمن (Chronic) بیماریاں جو آہستہ آہستہ جسم میں نفوذ کرتی ہیں۔لمبی بیماریوں کی بھی کئی قسمیں ہیں۔کچھ تھوڑا عرصہ رہنے والی ہیں جیسے ٹائیفائیڈ وغیرہ اور کچھ لمبا عرصہ جسم سے چمٹ جانے والی ہیں۔مثلاً تپ دق ، دمہ یا پھر غدودوں کا آہستہ آہستہ پھول کر کینسر میں تبدیل ہو جانا۔ا یکونائٹ کو حاد بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی دواؤں میں سر فہرست رکھا جاتا ہے۔گردے کے درد شروع ہونے پر ایکونائٹ (Aconite) 1000 کو بیلاڈونا (Belladonna)1000 کے ساتھ ملا کر پندرہ منٹ کے وقفہ سے دو خوراکیں دی جائیں تو متعد دمریضوں کو فوری فائدہ ہوتا ہے۔ہاں اگر گردے کے تشیخی در دکو گرمی سے آرام آتا ہو تو یہ نسخہ کوئی فائدہ نہیں دے گا۔یہ صرف ان مریضوں میں کام کرے گا جن کو گرم ٹکور نقصان پہنچاتی ہے۔جہاں گردے کی تکلیف میں گرمی سے افاقہ ہوتا ہو وہاں بعض دفعہ کولوسنتھ CM کی ایک ہی خوراک فوری فائدہ پہنچائے گی یا پھر میگ فاس 6x کو گرم پانی میں گھول کر گھونٹ گھونٹ پلایا جائے تو تشنج دور ہو جائے گا اور جہاں سردی سے آرام محسوس ہو وہاں ایکونائٹ اور بیلا ڈونا کام کرے گی۔اگر اچانک پیچش کے ساتھ خوف کا عنصر نمایاں ہو تو ا یکونائٹ اس پیچش میں بھی فوری فائدہ دیتی ہے۔خشک گرمی کی پیچش میں تو یہ لا جواب ہے۔دل کی بیماریوں میں بھی ایکونائٹ بہت کام آتی ہے۔میرے والد مرحوم جو خود بھی ایک بہت اچھے ہومیو پیتھ تھے وہ اکثر دل کی تکلیف میں ایکونائٹ اور کریٹیکس Crataegus) Q) ملا کر دیا کرتے تھے۔ایکونائٹ کو مد نکچر کی صورت میں ہی کریٹیکس مدر ٹنکچر سے ملا کر ٹانک بنایا جاتا مدرنیچر