ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 10

ایکونائٹ 10 نہایت مؤثر ہے۔اس طریق آزمائش سے ایکونائٹ کی جو خصوصیات سامنے آئیں ان میں انتہائی خوف، بیماری کی شدت اور اچانک پن نمایاں ہیں۔بیماری اچانک حملہ کرتی ہے اور مریض خیال کرتا ہے کہ وہ اس بیماری سے بچ نہ سکے گا۔ایکونائٹ عموماً خشک اور ٹھنڈے موسم کی دوا کہلاتی ہے کیونکہ اس کی بیماریاں زیادہ تر خشک سرد موسم میں لگتی ہیں۔مگر ضروری نہیں کہ ایکونائٹ صرف سردخشک موسم کی بیماریوں میں ہی استعمال ہو۔ہر قسم کی بیماریاں ہر موسم میں اگر اچانک اور تیزی سے شروع ہوں اور شدید خوف دامن گیر ہو تو بلاتر ددا یکونائٹ کا استعمال کرنا چاہئے۔تو و ایکونائٹ کو اگر رسٹاکس سے ملا کر دیا جائے تو یہ نسخہ بیماریوں کے آغاز میں اور بھی زیادہ مؤثر اور وسیع الاثر ثابت ہوتا ہے۔میرے نزدیک یہ اسپرین (Asprin) کا بہترین بدل ہے۔ہرایسی بیماری کے آغاز میں جس میں بے چینی اور بخار کی کیفیت ہو اور محسوس ہوتا ہو کہ کچھ ہونے والا ہے ایکونائٹ اور رسٹاکس کی 200 طاقت میں دو تین خوراکیں بیماری کو آغاز ہی میں ختم کر دیتی ہیں۔ایک دفعہ میرے موجودہ سیکورٹی آفیسر (ریٹائرڈ میجرمحمود احمد صاحب) ہمارے ساتھ سائیکلنگ پر گئے۔سخت بارش ہو رہی تھی اور سردی بھی بہت تھی۔ہم سب بھیگ گئے۔صبح انہیں بخار ہو گیا اور جسم میں شدید درد تھا۔انہیں ایکونائٹ (Acconite) 200+ رسٹاکس (Rhustox) 200 ملا کر اور آرنیکا (Arnica) 200 برائیونیا (Bryonia) 200 ملا کر نصف نصف گھنٹے کے وقفہ سے باری باری کھانے کی ہدایت دی گئی تو چند گھنٹوں میں بیماری کا نام ونشان باقی نہ رہا اور وہ پوری صحت کے ساتھ ڈیوٹی پر حاضر ہو گئے۔سردی اور بھیگنے کے نتیجہ میں محض ایکونائٹ اور رسٹاکس پر انحصار نہیں کرنا چاہئے بلکہ آرنیکا اور برائیونیا کو بھی ملا کر باری باری دینا چاہئے۔یہ نسخہ میں نے لمبے تجربہ کے بعد اخذ کیا ہے۔اس کا انتڑیوں ، پھیپھڑوں اور میعادی بخار سے بھی تعلق ہے اس کے علاوہ ملیریا اور پیچش پر بھی فوری اثر کرتا ہے۔بسا اوقات بیماری کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ وہ ان دواؤں کے بس میں نہیں ہوتی اور