ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 346
سایکلین 346 ہو جاتا ہے اور بولنے کو بھی دل نہیں چاہتا۔تمام قسم کے کاموں سے نفرت ہو جاتی ہے۔چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔سائیکلیمن کی مریضہ سمجھتی ہے کہ وہ دنیا میں اکیلی ہے اور ہر کوئی اس کے بارے میں بری باتیں کرتا ہے۔اکثر نوجوان بچیوں میں یہ کیفیت ہوتی ہے۔کئی بار ایسی بچیوں کو سلفر اور سٹرامونیم دی لیکن کوئی غیر معمولی فائدہ نہیں ہوا۔ہو سکتا ہے سائیکلیمن دی جاتی تو فائدہ ہو جاتا۔سائیکلیمن میں سردرد بہت شدید ہوتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سر پھٹ جائے گا۔صبح کے وقت سر در دشروع ہوتا ہے۔آنکھوں کے سامنے ستارے ناچتے ہیں۔نظر دھندلا جاتی ہے۔ایسا بھینگا پن جس میں آنکھ کا ڈیلا اندر کی طرف سکڑتا ہے اس میں سائیکلیمن بہت مفید دوا ہے۔آنکھوں میں حدت اور گرمی کا احساس ہوتا ہے۔ایک کی بجائے دو دو نظر آتے ہیں۔نظر کی مختلف تکلیفیں بسا اوقات معدہ کی خرابی سے تعلق رکھتی ہے۔آنکھ کی پتلیاں پھیل جاتی ہیں ، آدھی نظر غائب ہو جاتی ہے۔آنکھوں کے سامنے دھبے آتے ہیں جو مختلف رنگوں کے ہوتے ہیں۔سائیکلیمن میں دائیں کان کے اندر کھنچنے والا درد ہوتا ہے۔کانوں میں گھن گرج کی آوازیں آتی ہیں۔قوت شنوائی متاثر ہو جاتی ہے۔ی کلیمن میں گلے میں جلن پخشکی اور کھر چین کا احساس ہوتا ہے۔اس دوا میں عموماً پیاس نہیں ہوتی لیکن بخار کے دوران شام کے وقت مریض کی پیاس بہت بڑھ جاتی ہے۔معدے کی تمام تکالیف پلسٹیلا سے ملتی جلتی ہیں۔چربی والے کھانے سے نفرت ، گرمی ، جلن کا احساس اور کافی پینے کے بعد تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔کافی کا ایک خاص اثر سائیکلیمن کے مریض پر یہ پڑتا ہے کہ جتنی دفعہ کافی پیئے گا اتنی دفعہ اسہال آئیں گے۔معدے کی تکلیفوں میں ہچکی کا آنا سائیکلیمن کی بھی خاص علامت ہے۔سائیے سائیکلیمن منه کی مشکلی ، پیاس کی کمی یا پیشاب کی زیادتی میں تقسیم سے مشابہ ہے۔عام طور پر پسینہ بھی کم۔