ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 339
کروٹن 339 آتے ہیں۔اسہال کے مقابل پر کروٹن کی خارش کا تریاق رسٹاکس ہے۔ہتھیلیوں کی خارش میں اینا کیلیس (Anagallis) کو بہت شہرت حاصل ہے۔رسٹاکس کی خارش اور ایگزیما عموماً ہاتھ کی پشت پر ہوتے ہیں۔اپنا گیلس ہتھیلیوں کی دوا ہے۔جلن کے اعتبار سے اینا گیلس میں جلن کم اور رسٹاکس میں بہت زیادہ ہوتی ہے۔اینا گیلس کا ایگزیما ماؤف جگہ پر دوبارہ ابھر آنے کے اعتبار سے کروٹن کے مشابہ ہوتا ہے۔کروٹن کی تکلیفیں گرمی کے موسم میں بڑھ جاتی ہیں۔مریض بے سکون، پریشان اور غمگین رہتا ہے۔پیشانی میں شدید دباؤ اور درد ہو جاتا ہے، سر بوجھل ہو جاتا ہے اور چکر آتے ہیں۔کھانسی کے ساتھ دمہ کا دورہ بھی ہو جاتا ہے ، مریض کے تکیہ پر سر رکھتے ہی کھانسی شروع ہو جاتی ہے۔مریض لیٹ نہیں سکتا اور گہرا سانس لینا ناممکن ہو جاتا ہے۔اگر کان بہتے ہوں اور شدید خارش ہو تو کروٹن کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔غذا کی نالی میں جلن بھی کروٹن کی خاص علامت ہے۔معدے میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔کروٹن میں رات کے وقت جھاگ دار اور نارنجی رنگ کا پیشاب آتا ہے جو کھڑا رہے تو اس کی سطح پر چکنے ذرات آ جاتے ہیں۔دن میں بھی پیشاب زردی مائل ہوتا ہے اور اس میں سفید ذرات پائے جاتے ہیں۔کروٹن میں ذراسی چیز کھانے سے یا ماؤف جگہ پرلٹس سے نیز رات کے وقت تکلیفوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔دافع اثر دوائیں اینٹی مونیم ٹارٹ ، رسٹاکس، پوڈوفائیلم طاقت: 30 سے 1000،200 تک