ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 293 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 293

سیکوٹا وروسا 293 بجائے بے حسی پائی جاتی ہے۔کچی اور پکی ہوئی چیزوں میں فرق نہیں کرسکتا، دونوں شوق سے کھالے گا۔بعض بچے کوئلہ مٹی، چونا اور کا غذ وغیرہ کھاتے ہیں۔یہ کیلشیم کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔اس کا دماغی بیماری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔سیکوٹا کا مریض بچوں والی حرکتیں کرتا ہے۔بستر پر چھلانگیں لگائے گا، عجیب وغریب باتیں کرے گا، ناچے گا، گائے گا۔وہ بچوں کی طرح چیختا ہے۔بے وقوفانہ خیالات رکھتا ہے۔اگر مرگی کا دورہ کسی اچانک خوف کے نتیجہ میں پڑے توا یکونائٹ ایک ہزار فوری فائدہ تو پہنچاسکتی ہے، مستقل فائدہ نہیں پہنچاتی۔سیکوٹ اور وسا ایسے خوف سے پیدا ہونے والے شیخ یا مرگی کی مستقل دوا ہے۔جب دورہ کی شدت ختم ہو تو ایسے مریضوں کا خوف غم میں تبدیل ہو جاتا ہے اور اداسی چھا جاتی ہے۔یہ ایک زائد علامت ہے جو سیکوٹ اور وسا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یہ دوا پرانی چوٹوں سے پیدا شدہ تکالیف میں بھی مفید ہے۔خصوصا سر پر چوٹ کے بداثرات بعض اوقات فالجی بیماریوں پر منتج ہو جاتے ہیں۔عام طور پر اس میں نیٹرم سلف اور آرنیکا کام آتے ہیں۔ان کے بعد او پیم اور پیہم کا نمبر آتا ہے۔ہاں اگر چوٹ سے تشنج ہونے لگے یا مرگی کے دورے پڑنے لگیں تو سیکوٹا اور وسا خدا کے فضل سے مفید ثابت ہوگی۔اگر چوٹ کے نتیجہ میں بھینگا پن پیدا ہو جائے تو اس کی بھی یہی دوا ہے۔اس سے پہلے آرنیکا اور نیٹرم سلف بھی ضرور دینی چاہئیں۔اگر خوف کے نتیجہ میں آنکھیں اوپر کو چڑھ جائیں، پتلیاں پھیل جائیں اور بھینگا پن پیدا ہو تو سیکوٹا وروسا سے بہتر اور کوئی دوا نہیں۔اس کی جلدی علامات کا بھی اعصاب سے تعلق ہے۔مثلاً حجامت بنوانے کے بعد پیدا ہونے والی خارش کا بھی یہ علاج ہے کیونکہ استر ا چلنے سے اعصاب میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے اور بالوں کی جڑیں زود حس ہو جاتی ہیں۔اعصابی تکلیفیں عموماً جلد کی طرف منتقل ہو جائیں تو علاج مشکل ہو جاتا ہے۔سیکوٹا کی واضح علامات موجود ہوں تو یہ دوا کام کرے گی۔ہاتھوں اور چہرے پر مٹر کے دانوں کے برابر ابھار بن جاتے ہیں۔ایگزیما میں خارش