ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 286
286 چینینم آرس سے خون بہنے کا احتمال ہوتا ہے۔زبان پر لکیریں ظاہر ہوتی ہیں۔کالا، بھورا، سفید اور زردرنگ زبان پر پایا جاتا ہے۔مسوڑھے سوجے ہوئے، دانت مسوڑھوں کو چھوڑ نے لگتے ہیں ، منہ کا مزہ خراب ، اچھے سے اچھا کھانا بھی برا لگتا ہے، نہ ختم ہونے والی پیاس، رات کو دانتوں میں درد اور دانت کٹکٹانے کو دل چاہتا ہے جس کی وجہ سے نیند بے چین ہو جاتی ہے۔گلا خشک اور بعض دفعہ گلے سے سخت بدبو آتی ہے۔یہ بہت خطرناک علامت ہے کیونکہ یہ زخموں کے بگڑنے اور ناسور بنے کا رجحان ظاہر کرتی ہے۔اگر ایسے مریض میں چھینینم آرس کی علامات نمایاں نہ ہوں تو بلا تاخیر آرسنک اونچی طاقت میں دے دینی چاہئے۔چینینم آرس کی ایک علامت یہ ہے کہ اگر گلا نہ بھی خراب ہو تو پانی کا گھونٹ یا لقمہ نگلتے ہوئے درد ہوتا ہے۔ہر وقت گلا کھنکار نے (صاف کرنے ) کی حاجت محسوس ہوتی رہتی ہے۔چینینم آرس میں کبھی بھوک بالکل مٹ جاتی ہے اور طبیعت بدمزہ رہتی ہے لیکن بعض دفعہ شدید بھوک لگتی ہے جو ختم ہی نہیں ہوتی۔کھانا کھاتے ہی پیٹ پھول جاتا ہے۔جلن اور تیزابیت پیدا ہو جاتے ہیں، اور کھانے کے تھوڑی دیر بعد ہی پھر بھوک لگ جاتی ہے۔مچھلی اور انڈا ہضم نہیں ہوتے لیکن ان کے خلاف الرجی نہیں ہوتی۔اگر انڈے سے الرجی ہو جائے تو اس میں کلکیریا کارب اونچی طاقت میں ایک خوراک دینے سے ہی الرجی ٹھیک ہو سکتی ہے۔کبھی نہیں بھی ہوتی مگر اکثر ہو جاتی ہے۔چی نینم آرس کے مریض کو متلی ہو تو نیند نہیں آتی۔متلی ختم ہوتے ہی نیند آ جاتی ہے مگر سونے کے کچھ دیر کے بعد ایک دم قے ہو جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ متلی وقتی طور پر دب گئی تھی لیکن اصل وجہ موجود رہی۔ملیریا کے بعد پیٹ میں جو بیماریاں پیدا ہوتی ہیں وہ سب چھینینم آرس میں پائی جاتی ہیں۔جگر اور تلی ابھرے ہوئے مگر باقی سارا پیٹ سکٹر کر کمر کے ساتھ لگ جاتا ہے۔قبض میں سدے نکلتے ہیں۔آرسنک کے مریضوں کو بھی بعض پھلوں سے اسہال لگ جاتے ہیں۔