ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 273

کیمومیلا 273 یدا کیلی ہی اس جریان خون کے لئے مفید ہوتی ہے۔جس کا بچے کی پیدائش سے تعلق ہو۔بعض عورتوں کو بچوں کو دودھ پلاتے ہوئے جسم کے کسی حصہ میں تشیخ ہو جاتا ہے۔اگر یہ شیخ بالخصوص ٹانگوں یا گردن میں ہو تو کیمومیلا کی ایک دو خوراکوں سے ہی فائدہ ہوگا بلکہ یہ دوا بچے کے لئے بھی مفید ہوگی۔دودھ پیتے بچے کو دو دینی ہو تو اس کی ماں کو دی جائے۔جب وہ دودھ پلائے گی تو بچے کو بھی دوا پہنچ جائے گی لیکن بعض اوقات ایسا نہیں بھی ہوتا اس لئے براہ راست دوا دی جا سکے تو دینی چاہئے۔اگر بچے کی بیماری کی علامتیں ایسی ہوں جو ماں کے عمومی مزاج کے مطابق ہوں یعنی ماں کو بھی ایسی بیماریاں ہوں تو پھر ماں کو دوار بنا ہی بہت کافی ہے۔کیمومیلا کھانسی کے لئے بھی مفید دوا ہے۔بچہ کو سوتے ہوئے یا غصہ آنے پر کھانسی شروع ہو جائے تو کیمومیلا بہت اچھا کام کرتی ہے۔کالی کھانسی کی وبا پھیلی ہو تو بھی کیمومیلا اس کے خلاف دفاع کو مضبوط کرتی ہے۔اگر بچے کا مزاج غصے والا ہو تو کیمومیلا اور بھی اچھا کام کرے گی لیکن اس کے بغیر بھی یہ بعض موسمی کھانسیوں میں کافی مفید ہے۔دانت نکالنے کے زمانہ میں جب شیر خوار بچہ بہت ضدی، چڑ چڑا اور بے چین ہو، اسہال آتے ہوں تشنج بھی ہو جائے تو اس کے لئے کیمومیلا بہت ضروری دوا ہے۔اگر بچہ نیند میں روئے اور چیخے اور اسے ڈراؤنے خواب آئیں تو بھی کیمو میلا دینی چاہئے۔کیمومیلا کو کان کے درد میں بہت اونچا مقام حاصل ہے۔اس میں عموماً تین دوائیں روزمرہ کام آتی ہیں۔اگر بچہ درد سے روئے لیکن اس کے رونے میں نرمی ہو اور بیچارگی پائی جائے تو پلسٹیلا (Pulsatilla) اور اگر رونے کے ساتھ انتہائی غصہ ہو تو کیمومیلا اور یہ دونوں علامتیں نمایاں نہ ہوں تو بسا اوقات ایلیم سیپا کام آتی ہے۔اینٹی ڈوٹ : نکس وامیکا۔کافیا مددگار دوائیں : بیلا ڈونا۔میگ کا رب طاقت: 30 ، 1000 یا بعض دفعہ CM