ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxvii
دیباچه 15 علامات مرکب میں بھی موجود ہیں کیونکہ دوائیں ایک دوسرے کے اثر کو اندر ہی اندر زائل بھی کرتی رہتی ہیں اور آخری صورت میں بعض دفعہ بالکل مختلف تاثیر بھی ظاہر ہوتی ہے۔وائرس (Virus) وائرس (Virus) اپنے ارتقاء میں سب سے تیز ہے۔کوئی اور چیز اتنی تیزی سے شکلیں بدلتی نظر نہیں آتی جتنی وائرس ہے۔اگر ہومیو پیتھک طریق پر صحیح دوا دے کر اسے ختم نہ کیا جا سکے تو اینٹی بائیوٹک دوا دینے سے جو وائرس کی قسم مرے گی اس کے بدلے پہلے سے زیادہ خطرناک ایک نی قسم پیدا ہو جائے گی اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے کینسر میں بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔ایک عام اصول یہ عام اصول یا درکھیں کہ جہاں عوارض مزمنہو چکے ہوں یا اس نوعیت کے ہوں کہ بہت آہستہ آہستہ بڑھ کر انہوں نے نظا جسم پر قبضہ کیا ہو ان کے علاج کے لئے ایسی دواؤں کی ضرورت پڑتی ہے جس کے مزاج میں آہستگی پائی جاتی ہے اور وہ لمبے عرصہ تک استعمال کرتے رہنے پر آہستہ آہستہ اپنا اثر دکھاتی ہیں۔دیرینہ بیماریوں میں جو دوائی تجویز کریں وہ چھ ماہ ، سال تک دیتے رہیں۔پہلے کچھ عرصہ 30 طاقت میں دیں۔پھر جب وہ اثر بند کر دے تو 200 میں شروع کردیں۔ہفتہ دس دن میں ایک دفعہ اور اس کے بعد پھر مہینے میں ایک دو بار 1000 میں دیتے رہیں۔پھر آخری خوراک (Dose) ایک لاکھ میں دے کر چھ مہینے یا سال کے بعد اسے دہرا کر علاج بند کر دیں اور اس کے رفتہ رفتہ ظاہر ہونے والے اثرات کا بغور مطالعہ کریں۔طاقت (Potency) پوٹینسیوں کی بحث ایک الگ مضمون ہے۔اس میں بہت سائنٹیفک طور پر ریسرچ ہوئی ہے کہ