ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 211
211 کلکیر یا سلف مرگی کا علاج کرتے ہوئے یہ دیکھنا چاہئے کہ "اورا (Aura) کہاں سے شروع ہوا ہے۔اس کی تفصیل کے لئے دیکھیں کلکیریا آرس۔بعض مریضوں میں جہاں خون کا رجحان چہرہ اور سر کی طرف ہو، عموماً بیلا ڈونا کی طرف خیال جاتا ہے لیکن بیلا ڈونا اس میں علاج نہیں ہے، کچھ تھوڑا فائدہ دے کر رک جاتی ہے۔اور بھی کئی دواؤں میں خون کا رجحان سر کی طرف ہوتا ہے مثلاً ہائیڈ روسائینک ایسڈ (Hydrocyanic Acid)۔یہ گردن کے اندر سانس کی نالیوں میں تشیخ پیدا کرتا ہے اور چہرہ ایک دم تمتما اٹھتا ہے۔خون چہرہ کی طرف ایک دم اکٹھا ہو جاتا ہے۔ایسی صورت میں ہائیڈ روسائٹینک ایسڈ بھی مرگی کی دواؤں میں ایک نمایاں دوا بن جاتی ہے۔اس کے علاوہ ہائیڈ روفو بینم (Hydrophobinum) کا بھی اس بیماری سے تعلق ہے۔اس میں چمکدار چیزوں سے مریض کوگھبراہٹ ہوتی ہے۔اگر چمکدار چیزیں دیکھنے سے مرگی کا دورہ پڑنے کا احتمال ہو تو اس صورت میں ہائیڈ رو فو بینم بہت مفید ہے اور یہ ایسی دوا ہے جسے ہائیڈ روسائینک ایسڈ سے ملا کر بھی دیا جائے تو یہ ایک دوسرے سے ٹکراتی نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کی مددگار ہو جاتی ہیں۔جس مریض کی مرگی ہومیو پیتھک دواؤں سے قابو میں نہ آئے اسے لازماً ایلو پیتھک طلب کی طرف منتقل کر دینا چاہیے۔ایسی بہت طاقتور ایلو پیتھک دوائیں دریافت ہو چکی ہیں جو شیخ کو روک دیتی ہیں اور مریض ایک قسم کی دائمی غنودگی میں رہتا ہے لیکن تکلیف سے بچا رہتا ہے اور اس سے زیادہ اس کے لئے کچھ ہو نہیں سکتا۔ایلو پیتھی کے علاوہ چینی طریقہ علاج بھی آزمایا جاسکتا ہے۔کلکیر یا سلف عضلات کے کھچاؤ میں بھی بہت مفید دوا ہے۔اگر طاقت سے بڑھ کر بوجھ اٹھا لیا جائے تو کمر پر بوجھ پڑ جاتا ہے۔بعض دوسری دواؤں کے علاوہ کلکیر یا سلف بھی اس میں مفید دوا ثابت ہو سکتی ہے لیکن اس کا صرف کمر کے عضلات سے نہیں بلکہ سارے جسم کے عضلات سے تعلق ہے۔بوجھ اٹھانے سے ٹانگ یا بازو کے پٹھے هیچ جاتے ہیں۔یہ دوا ایسے سب عضلات پر اچھا اثر دکھاتی ہے جو طاقت سے بڑھ کر بوجھ